حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 561 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 561

زبان انگریزی سے مَیں خود تو واقف ہوں نہیں۔مگر لوگوں سے سُنا ہے کہ اس زبان میں بھی کوئی لفظ خاص کر کے خالصتاً لِلّٰد نہیں ہے۔ہر لفظ جو وہ خدا کے واسطے بولتے ہیں وہ ان کی زبان کے محاورے میں اَوروں پر بھی بولا جاتاہے۔سنسکرت میں تو مَیں علیٰ وجہ البصیرت کہہ سکتا ہوں کہ اوّل جو ان کی کتابوں میں خدا کا نام رکھا گیا ہے وہ اگنی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اگنی آگ پر بھی بولا جہاتا ہے علیٰ ھٰذا القیاس اَور اَور جو نام بھی ویدوں میں پرمیشر پر بولے ہیں۔وہ سرے کے سارے ایسے ہی ہیں کہ جن کی خصوصیت خد ا کے واسطے نہیں بلکہ وہ سب کے سب اَور دیوی دیوتاؤں وغیرہ پر بھی بولے جاتے ہیں۔یہ فخر صرف اسلام ہی کو ہے کہ خدا کا ایسا نام رکھا گیا ہے کہ جو کسی معبود وغیرہ کے واسطے نہیں بولا جاتا۔اَحَدٌ وہ اﷲ ایک ہے نہ کوئی اس کے سوا معبود اور نہ اس کے سوا کوئی تمہارے نفع و ضرر کا حقیقی مالک ہے۔کاملہ صفت سے موصوف اور ہر بدی سے منزّہ اور ممتاز اور پاک ذات ہے۔: اﷲ صمدؔ ہے۔صَمَد کہتے ہیں۔جس کی طرف ان کی احتیاج ہو اور خود نہ محتاج ہو۔صنمَد سردار کو کہتے ہیں۔اور صَمَدٌ اس کو کہتے ہیں کہ جس کے اندر سے نہ کچھ نکلے اور نہ اُس میں کچھ گُھسے۔یہ ایسا پاک نام ہے کہ انسان کو اگر اﷲ تعالیٰ کے اس نام پر کامل ایمان ہو۔تو اس کی ساری حاجتوں کے لئے کام کافی اور سارے دُکھوں سے نجات کے سامان ہو جاتے ہیں۔مَیں خود اپنے تجربہ سے کہتا ہوں اور اس امر کی عملی شہادت دیتا ہوں کہ جب صرف اﷲہی کو محتاج الیہ بنا لیا جاتا ہے تو بہت سے ناجائز ذرائع اور اعمال مثلاً کھانے پینے، مکان ، مہمانداری، بیوی بچوں کی تمام ضروری حاجات سے انسان بج جاتا ہے اور انسان ایسی تنگی سے بج جاتا ہے۔جو اس کو ناجائز وسائل سے ان مشکلات کا علاج کرنے کی ترغیب دیتی ہے جوں جوں دنیا خد سے دور ہو کر آمدنی کے وسائل سوچتی ہے اور دنیوی آمد میں ترقی کرتی جاتی ہے۔تُوں تُوں قدرت اور منشاء الہٰی ان آمدنیوں کو ایک خرچ کا کیڑا بھی لگا دیتا ہے۔گھر کی مستورات سے ہی لو۔اور پھر غور کرو کہ اس قوم نے کس طرح محنت کرنا اور کاروبارِ خانگی سے دست برداری اختیار کی ہے۔چرخہ کا تنا یا چکّی پیس کر گھر کی ضرورت کو پورا کرنا تو گویا اس زمانہ میں گناہ بلکہ کفر کی حد تک پہنچ گیا ہے۔کام کاف ( جو کہ در اصل ایک مفید ورزش تھی۔جس سے متوارات کی صحت قائم رہتی اور دودھ صاف ہو کر اولاد کی پرورش اور عمدہ صحت کا باعث ہوتا تھا) تو یوں چُھوٹا۔اخراجات میں ایسی ایسی ترقی ہو گئی کہ آجکل کے لباس کو دیکھ کر مجھے تو بار بار تعجب آتا ہے۔ایسا نکمّا لباس ہے کہ دس پندرہ دن کے بعد وہ نکمّا محض ہو کر خادمہ یا چُوہڑی کے کام کا ہو جاتا ہے۔اور خدا کی قدرت کہ پھر وہ چُوہڑی بھی اس سے بہت عرصہ تک