حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 556 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 556

اس سورۂ شریفہ میں ذکر نہیں ہے۔جو کوئی اس کے بیان پر پورا ایمان رکھے۔وہ اﷲ کے دین میں مخلص ہے۔۵۔سورۃ النجاۃ: کیونکہ اس پر پورا ایمان لانے سے اور اسی یقین پر مرنے سے کہ خدا ایک ہے انسان نجات پاتا ہے اور دوزخ سے بچتا ہے۔برخلاف اس کے عیسائیوں نے نجات اس میں سمجھی ہے۔کہ خدا تین بنائے جائیں لیکن اﷲ تعالیٰ نے ان کا ردّ کیا ہے۔کہ نجات اس میں ہے کہ خدا تعالیٰ کو ایک مانا جاوے۔۶۔سورۃ الولایۃ: کیونکہ یہ سورۃ پورے علم اور عمل اور معرفت کا ذریعہ ہو کر انسان کو درجہ ولایت تک پہنجا دیتی ہے۔۷۔سورۃ النسبۃ: کیونکہ اس سورث کے شانِ نزول میں ذکر ہے کہ کفّار نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ آپ کے معبود کا نسب نامہ کیا ہے۔تب یہ سورۃ نازلد ہوئی۔۸۔سورۃ المعرفہ: کیونکہ اﷲ تعالیٰ کی معرفت اسی کلام کی معرفت کے ساتھ کامل ہوتی ہے۔جابر کی روایت ہے کہ ایک شخص نے نماز پڑھی اور نماز میں کی سورث پڑھی تو آنحصرت صلی اﷲ عٹلیہ وسلم نے فرمایا۔اِنَّ ھٰذَا عنرَفَ رَبَّہٗ بیشک اس شخص نے اپنے رب کو پہچان لیا۔اس سے سورث کا نام سورۃ المعرفہ ہو گیا۔۹۔سورۃ الجمال: حدیث شریف میں آیا ہے۔اِنَّ ﷲَ جَمِیْلٌ وَ یُحِوبُّ الْجَمَالَ اﷲ تعالیٰ کے جمال کے متعلق جب سوال کیا گیا تو جواب ملا۔کہ وہ احد۔صمد۔لَمْ یلد ولَمْیُولَدْ ہے۔۱۰۔سورۃ المقشقشۃ: مقشقشہ کے معنے ہیں۔بری کرنے والا۔جب کوئی بیمار شفا پاتا ہے تو اہلِ عرب کہتے ہیں تَقَشْقَشَ الْمَرِیْضُ عَمَّابِہٖ۔بیمار نے اس سے نجات پائی۔جس میں وہ گرفتار تھا چونکہ یہ سورۃ شرک اور نفاق سے انسان کو بری کر کے خدا تعالیٰ کا خالص بندہ بنا دیتی ہے۔اس واسطے اس کا نام مقشقشہ رکھا گیا ہے۔۱۱۔سورۃ المعوّذہ: کیونکہ ایک دن حضرت رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم عثمان بن مظعون کے پاس تشریف لے گئے تو آپؐ نے اس سورۃ کو اور سورتوں سے ملا کر تعوّذ فرمایا۔۱۲۔سورۃ الصمد: کیونکہ اس میں صمد کا ذکر کصوصیت کے ساتھ ہے۔۱۳۔سورۃ الاساس: حصرت رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔سات آسمانوں اور سات زمینوں کی بنیاد پر بنائی گئی ہے۔اس بات کی سمجھ قرآن شریف کے اس مقام سے بخوبی آ سکتی ہے۔جہاں اﷲ تعالیٰ نے تثلیث اور ایک انسان کو خدا بنانے اور خدا بنانے اور خدا کا بیٹا بنانے کی بھاری خرابی اور نہایت شرارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ عقیدہ ایسا ناپاک ہے۔کہ