حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 551 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 551

اور اس کے معنے ہیں۔خودآ۔جو خود بخود ہے۔اور کسی نے اس کو جنا نہیں۔اور فارسی لٹریچر میں یہ الفاظ اَوروں کے واسطے بھی استعمال میں آتے ہیں۔ایسا ہی سنسکرت زبان میں جس قدر اﷲ تعالیٰ کے نام ہیں۔وہ سب صفاتی ہیں۔کوئی اسم ذات نہیں۔یہاں تک اس سورۃ شریف کی پہلی آیت کے الفاظ کے معانی کی ہم نے تشریح کر دی ہے۔: کہہ دے اے محمدؐ اور تمام جہان میں منا دی کر دے کہ وہ اﷲ ایک ہے نہ اس کی ذات میں کوئی شریک ہے نہ اس کی صفات میں کوئی اس کی مانند ہے۔نہ یسوع اﷲ تعالیٰ ، نہ رام ، نہ کرشن، نہ بُدھ اور نہ کوئی اور۔ہمیشہ سے ایک ہی اﷲ ہے۔اور ہمیشہ تک ایک ہی اﷲ ہو گا۔ایک ازلی ابدی خدا۔: صمد وہ ہے جس کے سامنے لوگ اپنی حاجتیں پیش کرتے ہیں۔اس سورۃ میں صمد بمعنی مصمود ہے۔جیسا کہ قبض بمعنے مقبوض آتا ہے۔اس کے معنے ہیں وہ سردار جس کے لوگ محتاج ہیں۔یہ لفظ ان معنوں میں عربی زبان کے لٹریچر میں مستعمل ہے۔چنانچہ وہ شعر بطور مثال کے اس جگہ نقل کئے جاتے ہیں۔اَلَا بَکر نَاعَی بِخَیْرِ بَنِی اَسَد! بِعَمْرِو بْنِ مَسْعُوْدِ بِالسَیِّدِ الصَّمَد خبردار! صبح کو موت کی خبر دینے والے نے۔بنو اسد کے اچھے آدمیوں سے جس کا نام عمرو بن مسعود خلقت اس کی محتاج ہے۔عَلَوْتُہٗ بِحُسَامِیْ ثُمَّ قُلْتُ لَہٗ خُذْھَا حُذَیْفَ فَاَنْتَ السَیِّدُ الصَّمَد مَیںاپنی تلوار لے کر اس پر چڑھ گیا۔پھر اس کو کہا۔لے اس کو اے حذیفہ! کیونکہ تو بڑا سردار اور حاجت روا ہے۔پس صمدؔ اس سردار کو کہتے ہیں۔جس کی طرف وقتِ حاجت قصد کیا جاوے۔چونکہ اﷲ تعالیٰ تمام انسانوں کو سب ہاجتوں کے پورا کرنے کے لئے قدرتِ تام رکھتا ہے۔اس واسطے اس کی صفت میں یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔اسی لحاظ سے سیّد سردار کو بھی کہتے ہیں۔کیونکہ تمام قوم اپنے سردار کی محتاج ہوتی ہے۔حصرت ابن عباسؓ کی حدیث سے بھی ان معنوں کی تصدیق ہوتی ہے۔جس میں لکھا ہے کہ جب یہ سورۃ شریف نازل ہوئی تو اصحاب نے سوال کیا کہ یا رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم صمدؔ کیا ہے تو آپؐ نے فرمایا۔ھُوَ السَّیِّدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ یُصْمَدُ اِلَیْہِ فِی الْحَوَائِجِوہ سردار ہے جس کی طرف لوگ احتیاج کے وقت قصد کرتے ہیں۔