حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 549
سُوْرَۃَ الْاِخْلَاصِ مَکِّیَّۃٌ ۲ تا ۵۔۔۔۔۔اور مخاطب تو کہہ دے۔اصل بات تو یہ ہے کہ خود بخود موجود جس کا نام ہے اَﷲ پوجنے کے لائق۔فرماں برداری کا مستحق ، وہ ایک ہے، اپنی ذات میں یکتا۔صفات میں بے ہمتا، ترکیب و مقدار سے پاک۔اﷲ جس کا نام ہے، وہ اصل مطلب مقصود بالذات ہر کمال میں بڑھا ہوا، جس کے اندر نہ کچھ جاوے کہ کھانے پینے وغیرہ کا محتاج ہو۔نہ اس کے اندر سے کچھ نکلے کہ کسی کا باپ بنے، پس نہ وہ کسی کا باپ اور نہ کسی کا بیٹا۔اس کے وجود میں ، اس کے بقا میں۔اس کی ذات میں۔اس کی صفات میں کوئی بھی اس کے جوڑ کا نہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۴۷ں۲۴۸) اے رسول اس طرح کہو اور اقرار کرو اور یقین کرو اور لوگوں کو وعظ کرو کہ اﷲ تعالیٰ ایک ہے واحد اور یگانہ ہے۔اﷲ بے احتیاج ہے۔کسی کا محتاج نہیں۔بے نیاز ہے۔کسی کی اُسے کوئی پرواہ نہیں۔اس نے کوئی بیٹا بیٹی نہیں جَنا۔اور نہ خود اُس کو کسی نے جنا تھا۔اور نہ اُس کا کوئی کنبہ قبیلہ شریک برداری والا اور برابری کرنے والا ہے۔یہ سورۃ مکّی ہے یعنی مکّہ معظّمہ میں نازل ہوئی تھی۔اس میں بسم اﷲ شریف کے بعد چار آیتیں ہیں۔اس کے الفاظ پندرہ ہیں اور حرف سینتالیس ہیں۔: بھی اﷲ تعالیٰ کا نام ہے۔توریت میں زیادہ تر یہی نام خدا تعالیٰ کا آتا ہے۔عبرانی میں اس کا ترجمہ یہوواہ سے کیا جاتا ہے۔مگر عبرانی زبان کے ایک مُردہ زبان ہونے کے سبب ٹھیک تلفّظ اور اصلیت کے متعلق بہت اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔عبرانی حروف میں اس کو اس طرح سے لکھا جاتا ہے۔n 7 n 7 ی ہ و ہ