حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 548
وہ دین جس میں دوسرے میرے برابر ہو جاویں۔ایسا ہی ایک دفعہ چند لوگ باہر سے حضرت رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خبر سُن کر آپؐ کی زیارت کے واسطے مکّہ معظمہ میں آئے تو ابولہب ان کو راستہ میں مل پڑا اور کہنے لگا کہ تم اس کے پاس کیا جاتے ہو وہ تو ساحر ہے۔ان لوگوں نے جواب دیا کہ کچھ ہی ہو۔ہم تو اب ضرور ان سے مل کر جاویں گے۔جب وہ لوگ باوجود اُس کی بڑی کوشش کے آنحضرت ؐ کے پاس چلے گئے۔اور اس کی بات نہ مانی تو وہ کہنے لگا۔اِنَّا لَمْ نَزَلْ نُعَالِجُہٗ مِنَ الْجُنُوْنِ فَتَبَّالَّہٗ وَ تَعْسًا ہم تو ہمیشہ اس کا علاج کرتے ہیں کہ اس کا جنون دور ہو جاوے،اُس پر ہلاکت اور افسوس ہو۔اُن لوگوں نے یہ بات آنحصرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو جا کر سنا دی، جس کے سبب حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کو حُزن پہنچا الغرض کوئی ہی واقعہ ابولہب کی شرارت اور شوخی کا ہوا ہو۔بہر حال یہ سورۃ شریف اسی کے متعلق نازل ہوئی تھی۔حصرت مسیح موعود علیہ السلام بارہا فرمایا کرتے تھے کہ کفّار کا وجود بھی بہت فائدہ دیتا ہے۔کیونکہ کفّار جب خدا تعالیٰ کے نبی کو دُکھ دیتے ہیں اور اُس کو ہر طرح ستانے پر کمر باندھتے ہیں۔تو خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی نشان دکھا دیتا ہے اور قرآن شریف کے اکثر حصّے کے نزول کے وقت بھی کفّار ہی تھے۔ورنہ سارے لوگ حصرت ابوبکرؓ ہی کی طرح اٰمَنَّا وَ صَدَّقنا کہنے والے ہوتے تو اس قدر آیات اور نشانات کہاں نازل ہوتے۔اس سورۃ شریف میں کفّار کے سرداروں میں سے ایک کو لیا گیا اور نام ذکر کیا گیا ہے۔مگر در اصل اس میں تمام کفار کے سرداروں کی ہلاکت کی طرف اشارہ ہے۔جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بالمقابل کھڑے ہوئے تھے۔اور آپؐ کی مکالفت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہاتھ بڑھاتے تھے۔خدا تعالیٰ نے ان سب کو ہلاک کیا اور دین و دنیا میں خائب و خاسر کر دیا۔فالحمد ﷲ علیٰ ذآلک (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍ دسمبر ۱۹۱۲ء)