حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 547 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 547

عداوت انسان کو سخت نقصان میں ڈال دیتی ہے۔اور اگلے پچھلے تمام عمل ضائع ہوتے ہیں۔اس سورہ شریف میں ابولہب اور اس کے تمام کنبے کے متعلق پیشگوئی ہے اس کے متعلق۔اس کے بیٹے کے متعلق ، قدرتب خدا یہ سب پیشگوئیاں، اپنے اپنے وقت پر ایسی پوری ہوئیں کہ آج تک ایک زبردست نشان کے رنگ میں دنیا کے سامنے ایک نقشۂ عبرت کھینچ رہی ہیں۔آج اس زمانہ میں ہی خدا تعالیٰ نے اس قِسم کے قہری نشانات کی بہت سی مثلایں قائم کر دی ہیں۔جن یں سے ایک لیکھرام کا نشن ہے۔وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حق میں بہت ہی نالائق اور ناپاک کلمات بلا کرتا تھا اور حصرت مرزا صاحب کے حق میں پیشگوئی کی تھی کہ یہ تین سال کے اندر ہیضہ سے مر جائیں گے اور بدگوئی میں اور گالیاں دینے میں حد سے بڑھا ہوا تھا۔خدا تعالیٰ نے ان تمام گالیوں اور بدگوئیوں کو ایک خنجر کی شکل میں واپس اُس کے پیٹ میں بھونک دیا جہاں سے کہ وہ نکلی تھیں۔اس آیت شریف کے شانِ نزول میں یہ اتفاق ہے کہ وہ ابولہب کی گالیوں اور ایذاء ئے مقابلہ میں نازل ہوئی تھی۔وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حق میں ہلاکت کی بد دعا کیا کرتا تھا۔گو اس امر میں کسی قدر اختلاف ہے کہ آیا یہ آیت اس بات پر نازل ہوئی۔جبکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کوہِ صفا پر چڑھ کر تمام قبائل کو جمع کیا اور انہیں خدا کے عذاب سے ڈرایا تو اس وقت ابولہب نے جھنجلا کر کہا کہ تجھ پر ہلاکت ہو، کیا اسی واسطے تو نے ہمارا سارا دن خراب کیا ہے۔بعض کا قول ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے تمام اعمال کو جمع کیا اور ان کی ضیافت کی۔اور ان کے سامنے کھانا رکھا تو انہوں نے کہا کہ ہم میں سے تو ہر ایک، ایک پوری بکری کا گوشت کھانے والا ہے۔یہ تو نے کیا ہمارے سامنے رکھا ہے۔عرب میں قاعدہ تھا کہ دعوت کے وقت ہر شخص کے سامنے بہت سا کھانا رکھا جاتا تھا۔اور اس میں ایک عزّت سمجھی جاتی تھی۔اس کے مطابق انہوں نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعوت پر اعتراض کیا۔کیونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ہر امر میں سادگی پسند تھے۔اس واسطے ان کو کہا گیا کہ تم کھانا تو شروع کرو۔جب انہوں نے کھانا شروع کیا تو خدا تعالیٰ نے اس تھوڑے سے کھانے میں ایسی برکت ڈالی۔کہ وہ سب سیر ہو گئے اور کھانا بہت سا بچ بھی رہا۔جبکہ وہ کھانے سے فارغ ہوئے تو رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کو اسلام کی طرف دعوت کی۔تب ان میں سے ابولہب بولا کہ اچھا۔اگر میں مسلمان ہو جاؤں تو میرے لئے کیا ہو گا۔آنحضرتؐ نے فرمایا۔جو کچھ دوسرے مسلمانوں کے لئے ہو گا وہی تیرے لئے ہو گا۔تب اُس نے کہا، کیا مجھے دوسروں پر فضیلت نہیں، آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فضیلت کس بات کی؟ تب اُس نے جواب دیا، تَبًّا لِھٰذَا الدِّیْنِ یَسْتَوِیْ فِیْہِ اَنَا وَغَیْرِیْ، خراب ہو