حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 542
کیونکہ اس کو نہ دنیا میں کوئی آرام پہنچا اور نہ دین کے معاملہ میں اس کو کوئی کامیابی حاصل ہوئی۔ہر طرف سے وہ خائب و خاسر ہی رہا۔ابن و قاب نے لکھا ہے کہ تَبَّتْ کے معنے صَفِرَتْ ہیں۔یعنی خالی رہے۔ہاتھوں کی طرف اشارہ اس واسطے بھی ہے کہ اس کا خیال تھا کہ میرا ہاتھ غالب رہے گا۔اور مَیں رسول کے مقابلہ میں فتہمند رہوں گا۔مگر خدا تعالیٰ نے اس کو عذاب کے ساتھ جلد موت دی۔بعض نے لکھا ہے کہ تَبَّتْ سے اشارہ اس کے بیٹے عُتْبَہ کی طرف ہے۔اگر بیٹے کی طرف اشآرہ ہو تو بیٹے کی ہلاکت بھی باپ کی ہلاکت ہے۔اور واقعات یہ ہیں کہ دونوں ہلاک ہوئے تھے۔اس کے بیٹے عتبہ کا ذکر ہے کہ وہ تجارت کے واسطے شام کو گیا ہوا تھا۔وہاں سے اہلِ قافلہ کے ذریعہ سے آنحضرتؐ کو کہلا بھیجا کہ تم محمدؐ کو جا کر کہہ دینا کہ مَیںاُسی وحی کا کافر ہوں جو تم پر اُتری ہے۔اور شرارت میں ہمیشہ مبالغہ کیا کرتا تھا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کے حق میں بد دُعا کی تھی کہ اَللّٰھُمَّ سَلِّطْ عَلَیْہِ کَلْباً مِنْ کِلَابِکَ چنانچہ ایک جنگل میں شیر نے اسے پھاڑ کھایا۔الغرض ابولہب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا ایک سخت دشمن تھا ہمیشہ ایذادہی کے درپے رہتا تھا۔اور آپ کے حق میں ہلاکت کی بد دُعا کیا کرتا تھا۔وہی بد دعا بالآخر اُلٹ کر اس کے اپنے سر پر جا پڑی اور وہ دین و دنیا میں خائب و خاسر ہو کر ہلاک ہو گیا۔مَا اَغْنٰی عَنْہ: نہ کفایت کیا اس سے۔اس کے کسی کام نہ آیا۔ہیچ دفع نہ کردازاُوْ۔مَالُہٗ وَ مَا کَسَبْ: اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا۔مَاکَسَبْ۔جو کچھ اس کی کمائی ہے اور بعض کے نزدیک اس سے مراد اس کی اولاد ہے۔مَا اَغْنٰی مَا لُہٗ وَ مَا کَسَبْ آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کی مخالفت میں کوئی چیز اس کے کام نہ آئی۔خداکے عذاب سے نہ اس کو اپنا مال چھڑا سکا اور نہ اس کی اولاد اس کے کسی کام آئی۔اس میں ایک پیشگوئی بھی ہے کہ باوجود مالدار ہونے کے اور صاحبِ اولاد ہونے کے اور قوم کے درمیان معزّز ہونے کے اس کی تمام کوششیں جو کہ وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی مخالفت میں کر رہا ہے۔سب کی سب اکارت جائیں گی۔وہ اپنی کسی کوشش میں کامیاب نہ ہو گا۔بلکہ ایک نامرادی کی موت مرے گا۔اس میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک بڑا بھاری نشان ہے۔کیونکہ یہ آیات ایسے وقت نازل ہوئی تھیں۔جبکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ہنوز مکّہ شریف میں رہتے تھے۔اور صرف چند آدمی آپؐ کے ساتھ تھے۔اور بظاہر کوئی رُعب آپؐ کا لوگوں پر نہ تھا۔بلکہ سب لوگ ہنسی ٹھٹھا کرتے اور ایذاء دیتے اور تمام قوم آپ کی دشمن تھی اور اپنے کیا بیگانے سب بگڑے ہوئے تھے۔کوئی شخص مسلمانوں میں داخل ہونے کی جرأت بمشکل تمام