حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 531
وَ الفِقْہُ یَمَانٍ و الْحِکْمَۃُ یَمَانِیَّۃٌ وَ قَالَ اَجِدُ نَفَسَ رَبِّکُمْ مِنْ قَبْلِ الْیَمَنِ اَﷲُ اَکْبَرُ۔اﷲ تعالیٰ کی نصرت اور فتح آئی۔اور اہلِ یمن آئے۔اہلِ یمن ایک قوم ہے جن کے دل نرم ہیں اور اہلِ یمن اہلِایمان اور اہلِ فقہ اور اہلِ حکمت ہیں۔اور فرمایا کہ مجھے یمن کی طرف سے تمہارے رب کی خوشبو آتی ہے۔یعنی اہلِ یمن اہل اﷲ ہیں۔اہلِ یمن اس سورث شریف کے نزول کے بعد ایمان لائے تھے۔تسبیح۔تحمید و استغفار:اس میں اوّل تسبیح کا حکم ہے پھر تحمید کا اور پھر استغفار اس ترتیب میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی صفات دو قسم پر ہیں۔ایک صفات سلبیہ اور دوم صفات ثبوتیّہ۔صفات سلبیہ ہو ہیں۔جو اﷲ تعالیٰ کے تمام نقائص سے پاک اور منزّہ ہونا اور اعلیٰ و برتر ہونا ظاہر کرتی ہیں۔سلبیہ کے معنے سلب کرنیوالی۔کھینچنے والی۔اور صفات ثبوتیہ وہ ہیں۔جو اﷲ تعالیٰ کے اکرام اور عزّت اور بلندی کا اظہار کرتی ہیں۔اس ترتیب میں صفات سلبیہ کا پہلے ذکر کیا گیا ہے۔اور صفات ثبوتیہ کو ان کے بعد لیا گیا ہے۔تسبیح اﷲ تعالیٰ کی جلالی صفات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ تمام بدیوں سے منزّہ اور بے عیب اور پاک ذات ہے۔تم بھی اس کی تسبیح کرو۔ں یعنی اس کا مقدّس اور پاک ہونا بیان کرو۔اور اس کی تحمید کرو۔کہ وہ تمام حمد کا مالک ہے اور سچی تعریف اسی کے لائق ہے۔اس کے بعد استغفار ہے جو کہ انسان کو اپنے قصور نفس اور کمزوری کی طرف توجّہ دلاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی بخشش کی طرف انسان کو کھینچتا ہے۔کہ اس کے سوائے انسان کا گزارہ نہیں اور انسان کے نفس کو کامل کرنے والی وہی ذاتِ پاک ہے۔جس کے ساتھ سچے اور خالص تعلق کے ذریعہ انسان بدیوں سے نجات پا سکتا ہے اور نیکیوں کے حصول کی اس کو توفیق ملتی ہے۔دِیْنِ اﷲ: اور تُو نے لوگوں کو دیکھا۔کہ دین اﷲ میں فوج در فوج داخل ہُوئے۔اس جگہ سے دین اﷲ مراد دینِ اسلام ہے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم دنیا میں لائے اور ؟آنحصرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی تبلیغ کا منشاء یہی تھا کہ مخلوق الہٰی دین اﷲ میں داخل ہو اور آنحصرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور قرآن شریف کے کلامِ الہٰی ہونے پر ایمان لاوے اور شعارب اسلامی نماز روزہ حج زکوٰۃ کی پابند ہو۔چنانچہ جب تک یہ سب کچھ ہو نہ لیا لوگوں کا دین اﷲ میں داخل ہونا تسلیم نہ کیا گیا۔قرآن شریف میں ایک اور جگہ دین کے معنوں کی وضاحت کی گئی ہے۔فرمایا ہے۔اِنَّ الدّیْنَ عِنْدَ اﷲِالْاِسْلَامُ(آل عمران:۲۰) اﷲ تعالیٰ کے حضور میں مقبول دین تو صرف اسلام ہی ہے۔اور فرمایاوَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ (آل عمران:۸۶)