حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 524
عنہا رونے لگیں۔آپ نے فرمایا۔تم کیوں روتی ہو؟ اہلِبیت میں سے سب سے پہلے مجھ سے تم ہی ملو گی! یہ سن کر وہ مسکرانے لگیں۔اس میںک بھی ایک پیشگوئی تھی۔چنانچہ اس کے بعد جلد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم فوت ہو گئے۔اور آپ کے بعد اہلِ بیت میں سب سے اوّل جس نے وفات پائی۔وہ حضرت فاطمہ ہی تھیں۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا یہ عجیب نمونہ ہے کہ حضرت فاطمہؓ کو آنحضرتؐ کی وفات کی خبر نے رُلا دیا۔لیکن پھر اپنی وفات کی خبر نے اس واسطے ہنسا دی کہ اس میں آنحضرت کے ساتھ دوسرے عالم میں ملاقات کی جلد صورت پیدا ہو گئی تھی۔اپنے مرنے کا خوف نہیں۔اور آنحضرتؐ لی ساتھ ملاقات کی خوشی غالب ہے۔(اخبار بدر قادیان ۲۱؍نومبر ۱۹۱۲ء) فتح مکّہ:اس سورۃ شریف میں میں لفظ فتح سے مراد فتح مکّہ ہے۔فتہ مکّہ کو فتح الفتوح بھی کہتے ہیں۔کیونکہ مکّہ کی تمام اسلامی فتوحات کی ابتداء تھی۔فتہ مکّہ کا واقعہ اس طرح سے ہے کہ ہجرت کے چھٹے سال انحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مدینہ منوّرہ میں ایک رؤیا دیکھا کہ آپؐ اور آپؐ کے صحابہؓ رصی اﷲ عنہم مکّہ کو گئے ہیں اور وہاں مسجد حرام میں امن کے ساتھ داخل ہوئے ہیں اور سر منڈاتے ہیں اور بال کترواتے ہیں جیسا کہ مکّہ معظمہ سے احرام کھولنے کے بعد کیا جاتا ہے۔چونکہ اس وقت مسلمان کفار کے ہاتھوں بہت تکلیف اٹھا رہے تھے اور مکّہ میں کفّار کا غلبہ تھا اور مسلمانوں کو زیارت کعبۃ اﷲ کے حصول میں بہت مشکلات کا سامنا ہوتا تھا۔اس واسطے اس مبشر مکاشفۂ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے جیسا کہ انبیاء علیہم السلام کی سنّت ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدوں پر پورا ایمان لا کر اور خدا تعالیٰ کی فرمودہ باتوں کے پورا ہو جانے پر یقین کر کے ان کے واسطے ہر طرح کے سامان مہیا کرتے ہیں۔اسی طرح حضرت رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس رویا کی سچائی پر یقین کر کے سفرِ مکّہ کی تیار کی اور چودہ سو اصحاب کے ساتھ شہرِ مکّہ کی طرف آئے۔بعض نادان لوگ ایسے موقعہ پر اعتراض کیا کرتے ہیں کہ پیشگوئی کو پورا کرنے کے واسطے کوشش کیوں کی جاتی ہے۔وہ تو خدا کا وعدہ ہے بہر حال پورا ہو گا۔ایسے اعتراضات تمام انبیاء پر کفّار نے کئے اور اس زمانہ کے بدقسمت لوگوں نے بھی یہ اعتراص خدا کے مُرسل حضرت مسیح موعودؑ پر کئے کہ مثلاً مقدّمہ کے وقت آپ نے پلیڈر کیوں کھڑا کیا۔اور شادی کے موقعہ پر آپ نے خط و کتابت وغیرہ کوششوں میں کیوں حصّہ لیا۔تعجب ہے کہ یہ اعتراض خود مسلمان اور دوسرے اہلِ کتاب عیسائی بھی کرتے ہیں۔جن کی کتاب میں انبیاء کی اسی سنّت کی بہت سی نظیریں موجود ہیں۔مسلمانوں کے واسطے تو خود یہی ایک قصّہ کافی ہے جو اس سورۃ شریف کے متعلق بیان ہوتا ہے اور عیسائیوں کے واسطے خود یسوع کی لائف میں بہت سے