حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 516 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 516

عٰبِدُوْنَ کا لفظ دو جگہ اس طرح آیا ہے کہ ع کے اوپر کھڑا الف لکھا گیا ہے مگر تیسری جگہ عابد کا لفظ ع کے بعد الف کے ساتھ آیا ہے۔حالانکہ دونوں الفاظ تمام تحریر میں ایک ہی طرح آسکتے ہیں۔لیکن میں نے بہت سے مختلف چھاپوں کے قرآن شریف کھول کر دیکھے اور سب میں مذکورہ بالا طرزِ تحریر پایا۔……قرآن شریف کی حفاظت کے واسطے یہ بھی ایک دلیل ہے کہ جب سے حضرت رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن شریف لکھا گیا اور جیسا کہ لکھا گیا۔اس میں کوئی تغیر و تبدّل نہ ہوا اور نہ ہونے کی کوئی گنجائش تھی۔برخلاف اس کے ہم انجیل اور تورات کو دیکھتے ہیں۔کہ اوّل تو ان کی اصلیت کا کوئی پتہ ہی نہیں ملتا۔کہ اصل نسخے کیسے تھے۔اور کہاں غائب ہوئے۔اور جو کچھ نقلی یا فرضی کتابیں موجود ہیں۔ان کے متعلق بھی آج تک کمی؍تیاں ہو رہی ہیں۔جو ان امور کی تحقیقات کرتی ہیں۔کہ ان کتابوں میں سے کونسی عبارتیں ہنوز نکال دینے کے قابل ہیں۔جس قدر کتابیں اس وقت دنیا میں الہامی مانی گئی ہیں۔ان میں سے ایک بھی اپنی اصلی حالت میں محفوظ نہں ہے۔سوائے قرآن شریف کے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن شریف کے سوا اور کسی کتاب کی حفاظت کا ذمّہ باری تعالیٰ نے نہیں لیا اور اس واسطے دوسری کتابیں عوام کے دستبردسے محفوظ نہیں رہ سکیں۔خواصِ سُورت: زید بن ارقم رفعاً کہتے ہیں کہ جس شخص نے اﷲ تعالیٰ کی ملاقات دو سورتیں ساتھ لے کر کی۔اس سے کوئی حساب کتاب نہیں لیا جائے گا۔وہ دو سورتیں کافرون اور قُلْ ھُوَاﷲُ اَحَدٌ ہیں۔اس حدیث شریف کا مطلب ظاہر ہے کہ سورۃ کافرون میں کفّار اور ان کے کفر سے پوری بیزاری اور بے تعلّقی ظاہر کی گئی ہے۔اور سورۃ اخلاص میں خدا تعالیٰ کی توحید کا پورے طور پر اقرار کیا گیا ہے بدی کا ترک اور نیکی کا حصول۔؍سیطان سے دوری اور خدا کا قُرب۔یہی دو باتیں ہیں جو کسی مذہب کا آکری نتیجہ ہو سکتی ہیں۔جب یہ دونوں باتیں اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کسی کو حاصل ہو جاویں۔تو وہ اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ گیا۔اور اس کے واسطے کوئی حساب باقی نہیں رہا۔ایک روایت میں ابنِ عمر سے منقول ہے۔کہ یہ سورۃربع قرآن کے برابر ہے۔کیا معنے یہ قرآن شریف کا چوتھا حصّہ ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کلامِ پاک کے مضامین کا چہارم حصّہ کفّار اور ان کے کام سے بیزاری اور خداوند کی خالص عبادت کے بیان پر مشتمل ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۱؍نومبر ۱۹۱۲ء)