حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 512
جاتی ہے چنانچہ اس کی نظیر خود اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ہمارے واسطے پیدا کر دی ہے۔خدا کا مسیح کس قوّت اور زور کے ساتھ دنیاکی تمام قوموں کے درمیان توحید کا وعظ کر رہا ہے۔نہ ایک دفعہ کہہ کر وہ خاموش ہو جاتا ہے۔بلکہ بار بار ہر ایک ذریعہسے خدا کا پیغام دنیا کو پہنچاتا ہے۔نہ صرف ایک زبان میں بلکہ اردو، عربی،فارسی اور انگریزی، پشتو وغیرہ زبانوں میں اس کی تبلیع کا آوازہ دنیا کے چار کونوں تک پہنچ رہا ہے۔رسالوں میں۔اخباروں میں۔اشتہاروں میں۔زبانی تقریروں۔قلمی تحریروں میں غرض کوئی ذریعہ تبلیع کا اٹھا نہیں رکھا گیا۔اور آج دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں۔جہاں کے لوگ اس مسیح کے نام سے اور اس کے دعوے سے ناواقف ہوں۔خدا کے برگزیدوں کی ہمیشہ سے یہ ہی سنت ہے کہ وہ کھول کھو ل کر اور پھاڑ پھاڑ کر خدا کا حکم دنیا جہان کو پہنچادیتے ہیں اور اس کے حکم کے پہنچانے میں نہ وہ کسی دشمن کی دشمنی کی پرواہ کرے اور نہ کسی مخالف کی مخالفت سے کبھی ڈرتے ہیں۔نادان ان کے مقابلہ میں اُٹٍتے اور جوش دکھاتے ہیں۔پھر تھدک کر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر ناامید ہو کر ناکام مر جاتے ہیں۔پر وہ خدا کے بندے ہر روز اپنا قدم آگے بڑھاتے ہیں اور خدا کی تائید سے کامیاب ہو کر رہتے ہیں۔شانِ نزول: یہ سورہ شریف بقول ابن مسعود و حس و عکرمہ مکّی ہے۔اس زمانہ میں نازل ہوئی تھی جبکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ہنوز مکّہ معظمہ میں قیام رکھتے تھے اس سورہ کی پیشین گوئی سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سورۃ ایسے وقت میں نازل ہوئی تھی۔جب کے کفّار اپنے زور پر تھے۔اور اپنے بُتوں کی حمایت اور ان کی پرستش میں بڑے یقین کے ساتھ مصروف تھے اور گمان کرتے تھے کہ اسلامی سلسلہ ایک چند روزہ بات ہے جو جدلی ہم لوگ اپنی قوت و زور کے ساتھ نیست و نابود کر دیں گے۔اور آنحصرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے دعوٰی نبوّت کی اصل کیفیت نہ سمجھ کر ان میں سے چند ادمی جیسا کہ ابوجہل۔عاص بن وائل اور ولید بن مغیرہ۔اَسْوَد بن عبدیغوث وغیرہ نے آپؐ کے پاس پیغام بھیجا کہ ہمارے بُتوں کی مذمت کرنا اور ان کو بُرائی سے یاد کرنا چھوڑ دو۔اور اس کے عوص میں ہم آپ کو اس قدر مال دیں گے کہ مکّہ میں آپ سے زیادہ بڑا کوئی مالدار نہ ہو وے۔یا اگر آپ چاہیں تو ہمارے قبائل میں سے سب سے زیادہ خوبصورت عورت جو آپ کو پسندہو آپ لے لیں اور اگر آپ کو ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات پسند نہ ہو تو پھر تیسری بات یہ ہے۔کہ آپ ہمارے ساتھ اس طرح سے صلح کر لیں کہ ایک سال ہمارے بُتوں کی پرستش کریں تو پھر دوسرے سال ہم آپ کے اﷲ کی عبادت کریں گے۔اس طرح برابر تقسیم ہوتی رہے گی اور کسی کو شکایت کا موقعہ نہ رہے گا۔معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہ لوگ کیسے جاہل ہیں کہ نہیں سمجھتے کہ میں کس خوبیوں سے بھرے