حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 509
سُوْرَۃَ الْکَافِرُوْنَ مَکِّیَّۃٌ سورۃ کافرون مکّی ہے۔طبرانی اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت کی ہے۔کہ قریش نے ایک دفعہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو کہا کہ ہم آپ کو اتنا مال دیتے ہیں کہ آپ مکّہ میں سب سے بڑے دولتمند ہو جائیں۔اور جس عورت کو آپ پسند کریں۔اس کے ساتھ آپ کا نکاح کر دیتے ہیں۔یہ سب کچھ آپ لے لیں اور ہمارے معبودوں کی بُرائی بیان کرنے سے رُک جائیں۔اور ان کو بدی کے ساتھ یاد نہ کریں اور اگر آپکو یہ بات منظور نہیں تو ہم ایک اَور بات پیش کرتے ہیں۔اور اس میں آپ کی بہتری ہے۔آنحضورؐ نے فرمایا۔بتاؤ وہ کیا ہے ؟ تو کہنے لگے۔ایسا کرو۔کہ ایک سال آپ ہمارے بتوں کی پُوجا کرو۔اور پھر ایک سال ہم آپ کے معبود کی پرستش کریں گے۔ں حضرتؐ نے فرمایا۔ٹھہر جاؤ۔اس کا جواب مَیں خدا سے پا کر تم کو بتلاؤں گا۔پس یہ وحی الہٰی نازل ہوئی۔کہ اے میرے منکرو! الخ اور یہ آیت نازل ہوئی قُلْ اَفَغَیْرَ اﷲ ( الزّمر : ۶۵) جس کا ترجمہ یہ ہے۔کہ ان کو کہہ دو کہ اے جاہلو۔کیا تم مجھے یہ کہتے ہو کہ اﷲ کے سوائے کسی اَور کی عبادت کروں۔اور تجھ پر اور تجھ سے پہلوں پر یہ وحی نازل ہو چکی ہے۔کہ اگر تو خدا کے ساتھ شرک کرے گا تو تیری تمام محنت بیکار ہو جائے گی۔اور تو نقصان پانے والوں میں سے ہو گا۔بلکہ ایک اﷲ ہی معبود ہے۔اسی کی عبادت کر اور قدر دانوں میں سے بن۔مسلم اور بیہقی نے اپنی کتاب میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ آنحضرتؓ نے فجر کی دو رکعتوں ( ستّتوں ) میں قُلْ یَآ اَیَّھَا الْکٰفِرُوْنَ اور سورۃ اخلاص پڑھی تھی۔عام سنّت یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ سبحانہٗ اپنی کتاب قرآن کریم میں جہاں کہیں کفّار کا ذکر کرتا ہے تو اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا کر کے فرماتا ہے لیکن اس کی بجائے اس سورۃ شریف میں اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا نہیں فرمایابلکہ یوں فرمایا۔کہیَآ اَیَّھَا الْکٰفِرُوْن۔اے کافرو! اس کی وجہ یہ ہے کہ کلمہ کَفَرُوْا صیغہ ماضی میں ہے۔اور انقطاع پر دلالت کرتا ہے۔پس اﷲ تعالیٰ نے یَآ اَیَّھَا الْکٰفِرُوْن۔اے کافرو! فرما کر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔بلکہ صاف تصریح کر دی ہے کہ یہ مخاطب ایسے کافر ہیں کہ صفت کفر ان کے لازم حال ہو گئی ہے۔