حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 508 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 508

و اپنی اصلاح نہیں کرتا اور اپنا مطالعہ نہیں کرتا۔وہ پتھر ہے۔دنیا کے ایچ پیچ کام نہیں آتے۔کام آنیوالی چیز نیکی اور اعمالِ صالحہ ہیں۔خدا سب کو توفیق عطا کرے۔( الحکم ۲۴؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۔۵) کوثر کے معنے خیرِ کثیر کے ہیں۔پیغمبر صلی اﷲ علیہ واآلہٖ وسلم دنیا میں تنہا تھے۔بعد میں اﷲ تعالیٰ نے آپؐ کو کیا کچھ خیرب کثیر دیا اور دیتا جا رہا ہے۔سکھوں کا مذہب صرف اتنا ہی ہے۔کہ اﷲ کو ایک مان لو اور دعا کر لو۔کوئی زیادہ قیدیں اس مذہب میں نہیں مگر باوجود اس آسانی کے پھر بھی اس مذہب میں کوئی ترقی نہیں۔بخلاف اس کے کہ اس میں بہت ساری پابندئیں ہیں۔نماز کی، روزہ کیگ حج کی، زکوٰۃ اور دیگر عبادات کی۔مگر باوجود ان تمام پابندیوں کے اسلام میں روز بروز ترقی ہے۔یہ کیسا خیر کثیر ہے۔جو پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو عطا ہو رہا ہے۔ایک مُلّا تو کہے گا کہ اَعْطَیْنَا صیغہ ماضی کا بمعنی مضارع ہے۔آخرت میں آپؐ کو حوضِ کوثر عطا ہو گا۔سَلَّمْنَا۔اس میں کلام نہیں کہ آخرت میں حوضِ کوثر آپ کو عطا ہو گا مگر اس میں کیا شک کہ دنیا میں جس کثرت سے آپؐ پر عطایات الہٰی ہوئے۔وہ بے حد و بے مثل ہیں۔کوثر کا لفظ کثیر سے مستق ہے۔پیغمبر صلی اﷲ علیہ وو آلہٖ وسلم کا ایک صحابی بیس ہزار، چالیس ہزار، بلکہ ساٹھ ہزار پر فاتح ہوا۔خود پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کا کام مقابلہ نہ ایسا تھا کہ جس کی نظیر نہیں۔پنجوقت نماز آپ ؐ خود پڑھاتے۔سارے قضایا آپ خود ہی فیصلہ کرتے تھے۔بیویاں جس قدر آپؐ کی تھیں ان کی خاطرداری اس قدر تھی۔کہ سب آپ سے خوش تھیں۔لوگ کہتے ہیں کہ امس زمانہ کی عورت کی پوزیشن ہی کچھ ایسی تھی کہ تکلفّات نہ تھے۔مگر عورتوں کی جبلّت کا بیان یوں فرمایا ہے کہ مرد کی عقل کو چرخ دینے والی عورتوں سے بڑھ کر اور کوئی مخلوق میں نے نہیں دیکھی۔کہ عقلمند مرد کی عقل کو کھو دیتی ہے۔عورتوں پر ہر ہر بات پر تسدّد مت کرو۔لڑکوں کو بھی مارنے اور سزا دینے کا میں سخت مکالف ہوں۔حصرت صاحب بھی لڑکوں کو مارنے سے بہت منع کیا کرتے ہیں۔میں تو انگریزی پڑھا نہیں۔سنا ہے کہ یونیورسٹی کی بھی یہی ہدایت ہے۔کہ استاد طلبہ کو نہ مارا کریں۔باوجود ان تاکیدوں کے لوگ بچوں کو مارنے سے باز نہیں آئے اور سمجھتے ہیں کہ یہ تو ہمارا فرص منصبی ہے وہ جھوٹ کہتے ہیںک۔بہت لوگ ہیں کہ وعظ کرنا تو سیکھ لیتے ہیں مگر خود عملدر آمد نہیں سکھیتے۔تمہارے ہاتھوں میں اب سلطنت نہیں رہی۔اگر تم اچھے ہوتے تو سلطنتیں تم سے نہ چھینی جاتیں۔(بدر ۲۱؍دسمبر ۱۹۱۱ء صفحہ ۲) اَلْکَوْثَر: نبی کریمؐ کو جو چیز ملی۔کثرت سے ملی۔کتاب ملی تو جامع۔اُمّت ملی تو خیرالامُم۔حکومت ملی تو ابدی۔سپاہ ملی تو بے نظیر۔دونوں مذہبوں کے مرکز بھی آپؐ ہی کے ہاتھ پر فتح ہوئے پھر حوضِ کوثر۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۸۸)