حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 47 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 47

پانی پیتا ہے۔میں نے ایک شخص کو ایک بے نماز دکھلایا جس کے گلے میں ایک زخم آتشک کا تھا جس میں پیپ بھری ہوئی تھی۔ار اس کا کھانا۔پینا پیپ سے آلودہ ہو کر اندر جاتا تھا اس طرح سے پیپ کھانے کا عذاب میں نے دنیا میں دیکھا ہے۔اﷲ تعالیٰ کی پکڑ بڑی سخت ہے اس سے ڈرنا چاہیئے۔جب میں جوان تھا۔مجھے طبّ کا بھی شوق تھا۔ایک شخص میرے پاس آتشک زدہ آیا۔مجھے خیال آیا کہ جَو بھُون کر اس میں تھوہر کا دودھ جذب کر کے گولیاں بنائیں۔میں نے طعام الاثیم(یعنی گناہ گاروں کی غذا) سمجھ کر اُس کو بھی وہ گولی دی۔اس نے اس کو بہت گھبرایا۔اور کہنے لگا۔میرے اندر تو آگ لگ گئی ہے۔پانی دو۔پھر مَیں نے ( اس آیت کا خیال کر کے) گرم پانی چند گھونٹ پلا دیا۔اس کو قے اور دست شروع ہو گئے۔مگر آتشک اچھا ہو گیا۔(بدر ۱۵؍مئی ۱۹۱۳ء صفحہ ۲۷) ۷۲ تا ۷۴۔۔ ۔۔اس آگ کو جسے جلاتے ہو سمجھتے ہو کیا تم نے اس کا درخت پیدا کیا یا ہم پیدا کرنے والے ہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۵۴) ۷۶۔۔: ان لوگوں کے دل جن پر قرآن نازل ہو۔قرآن کو پاک لوگ ہی سمجھتے ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۸۳) ۸۰۔۔ثابت ہوتا ہے کہ زمانہ پاک میں اس (قرآن مجید) کے نسخے موجود تھے۔اسی واسطے فرمایا کیسا مشہور قصّہ ہے کہ جب حضرت عمرؓ ایمان لائے تو اس وقت آپؓ نے اپنی بہن کے پاس سے