حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 504 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 504

ٰ اس کے بنانے پر آتا ہے تو اس عاجز انسان کو اپنا بنا کر دکھا دیتا ہے۔اور ایک اُجڑی بستی کو آباد کرتا ہے۔کیا تعجب انگیز نطارہ ہے۔بڑے بڑے شہروں اور بڑے اکڑباز مدبّڑوں کو محروم کر دیتا ہے۔حالانکہ وہاں ہر قسم کی ترقی کے اسباب موجود ہوتے ہیں۔اور علم و واقفیت کے ذرائع وسیع۔مثلاً اس وقت دیکھو کہ کیسی بستی کو اس نے برگزیدہ کیا؟ جہاں نہ ترقی کے اسباب نہ معلومات کی توسیع کے وسائل، نہ علمی چرچے ، نہ مذہبی تذکرے، نہ کوئی دارالعوم، نہ کتب خانہ۔صرف خدائی ہاتھ ہے۔جس نے اپنے بندہ کی خود تربیت کی اور عظیم الشان نشان دکھایا۔غور کرو کہ کس طرح اﷲ تعالیٰ ثابت کرتا ہے۔کہ اُس نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو کوثر عطا فرمایا ہے۔لیکن غافل انسان نہیں سوچتا۔افسوس تو یہ ہے۔کہ جیسے اور لوگوں نے غفلت کی۔ویسی ہی غفلت کا شکار مسلمان ہوئے۔آہ۔اگر وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے عالی مدارج پر خیال کرتے۔اور کود بھی ان سے حصّہ لینے کے آرزو مند ہوتے تو اﷲ تعالیٰ ان کو بھی کوثر عطا فرماتا میں دیکھتا ہوں کہ جھوٹ بولنے میں دلیر۔فریب و دغا میں بیباک ہو رہے ہیں۔نمازوں میں سُستی۔قرآن کے سمجھنے میں سُستی اور غفلت سے کام لیا جاتا ہے۔اور سب سے بدتر سُستی یہ ہے۔کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چال چلن کی خبر نہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ عیسائی اور آریہ آپ کے چال چلن کو تلاش کرتے ہیں۔اگرچہ اعتراض کرنے کے لئے مگر کرتے تو ہیں۔مسلمانوں میں اس قدر سُستی ہے کہ وہ کبھی دیکھتے ہی نہیں۔اس وقت جتنے یہاں موجود ہیں۔ان کو اگر پوچھا جاوے تو شاید ایک بھی ایسا نہ ملے۔جو یہ بتا سکے کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی معاشرت کسی تھی، آپ کا سونا کیسا تھا، جاگنا کیسا، مصائب اور مشکلات میلں کیسی استقلال اور علو ہمّتی سے کام لیا اور رزم میں کیسی شجاعت اور ہمّت دکھائی۔میں یقیناً کہتا ہوں کہ ایک بھی ایسا نہیں جو تفصیل کے ساتھ آپ کے واقعاتِ زندگی پر اطلاع رکھتا ہو۔حالانکہ یہ ضروری بات تھی کہ آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے حالاتِ زندگی پر پوری اطلاع حاصل کرنے کی کوشس کی جاتی۔کیونکہ جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ آپؐ دن رات میں کیا کیا عمل کرتے تھے؟ اس وقت ان اعمال کی طرف تحریک اور ترغیب نہیں ہو سکتی ۱؎۔خدا تعالیٰ کی محبت ی اس کے محبوب بننے کا ذریعہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سچّی اتباع ہے۔پھر یہ اتباع کیسے کامل طور پر ہو سکتی ہے۔جب معلوم ہی نہ ہو کہ آپؐ کیا کیا کرتے تھے۔اس پہلو میں بھی مسلمانوں نے جس قدر اس وقت سُستی اور غفلت سے کام لیا ہے وہ بہت کچھ ان کی ذلّت اور ضُعف کا باعث ٹھہرا۔