حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 503 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 503

پھر استحکام و حفاظت مذہب کے لئے دیکھو۔جس قدر مذہب دنیا میں موجود ہیں۔یعنی جو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں۔اس کی حفاظت کا ذمہ دار اﷲ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ٹھہرایا ہے۔مگر قرآن کریم کی تعلیم کے لئے فرمایا۔اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ( الحجر:۱۰) یہ کیا کوثر ہے !!! اﷲ تعالیٰ خود اس دین کی نصرت اور تائید اور حفاظت فرماتا اور اپنے مخلص بندوں کو دنیا میں بھیجتا ہے۔جو اپنے کمالات اور تعلقاتِ الہٰیہ میں ایک نمونہ ہوتے ہیں۔ان کو دیکھ کر معلوم ہو جاتا ہے۔کہ ایک انسان کیونکر خدا تعالیٰ کو اپنا بنا لیتا ہے۔ہر صدی کے سر پر ایک مجدّد آتا ہے۔جو ایک خاص جماعت قائم کرتا ہے۔میرا اعتقاد تو یہ ہے۔کہ ہر ۲۵۔۵۰ اور سو برس پر آتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا کوثر ہو گا؟ پھر سارے مذآہب میں دعا کو مانتے ہیں اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ جب بندہ اپنے مولیٰ سے کچھ مانگتا ہے۔تو اسے کچھ نہ کچھ ضرور ملتا ہے مگر مانگنے کے مختلف طریق ہیں مگر مشترک طور پر یہ سب مانتے ہیں کہ جو مانگتا ہے وہ پاتا ہے۔اس اصل کو لیکر مَیں نے غور کیا ہے۔کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اس پہلو سے بھی کیا کچھ ملا ہے۔تیرہ سو برس سے برابر امّت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آپؐ کے لئے اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍکہہ کر دعائیں کر رہی ہے۔اور پھر اﷲ اور اﷲ کے فرشتے بھی اس درود شریف کے پڑھنے میں شریک ہیں اور ہر وقت یہ دعا ہو رہی ہے۔کیونکر دنیا پر کسی نہ کسی نماز کا وقت موجود رہتا ہے۔اور علاوہ نمزا کے پڑھنے والے بھی بے انتہاء ہیں۔اب سوچو کہ اس تیرہ سو برس کے اندر کس قدر روہوں نے کس سوز اور تڑپ کے ساتھ اپنے محبوب و آقا کی کامیابیوں اور آپؐ کے مدارجب عالیہ کی ترقی کے لئے اَللّٰھممَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍکہہ کر دعائیں مانگی ہوں گی۔پھر ان دعاؤں کے ثمرہ میں جو کچھ آپ کو ملا۔کیا اس کی کوئی حدہو سکتی ہے؟ اور دعا کوئی چیز ہے اور ضرور ہے تو پھر اس پہلو سے آپ کے مدارج اور مراتب کی نظیر پیس کرو کیا دنیا میں کوئی قوم اور امّت ایسی ہے جس نے اپنے نبی اور رسول کے لئے یہ التزام دعا کا کیا ہو؟ کوئی بھی نہیں۔کوئی عیسائی مسیحؑ کے لئے۔یہودی موسٰیؑ کے لئے۔سناتنی شنکر اچارج کے لئے دعائیں مانگنے والا نہیں ہے۔اس دنیا کے مدارج کو تو ان امور پر قیاس کرو اور آگے جو کچھ آپؐ کو ملا ہے۔وہ وہاں چل کر معلوم ہو جاوے گا۔مگر اس کا اندازہ اسی’’ بہت کچھ‘‘ سے ہو سکتا ہے۔کہ برزخؔ میں۔حشرؔمیں۔صراط: میں بہشت۔میں۔غرض کوثر ہی کوثر ہو گا۔اس عاجز انسان اور اس کی ہستی کو دیکھو کہ کیسی ضعیف اور ناتوان ہے۔لیکن جب اﷲ تعالیٰ