حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 499 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 499

اغراض ہمیشہ مختلف ہوتے ہیں۔کوئی فوجوں کو جوش دلاتا۔ان میں مستعدی اور ہوشیاری پیدا کرنے کے لئے تحریک کرتا ہے کہ وہ دشمن کے مقابلہ کے لئے چُست و چالاک ہو جائیں۔کوئی امورِ خانہ داری کے متعلق۔کوئی تجارت اور ہرفہ کے لئے۔مختصر یہ کہ ان کی غرض انتظامی امور یا عامہ اصلاح ہوتی ہے جو دوسرے الفاظ میں سیاسی یا پولٹیکل تمدّنی یا سوشل اصلاح ہے۔اور وہ لوگ جو دین کے لئے وعظ کرنے کو کھڑے ہوتے ہیں۔ان کی بھی دو ہی حالتیں ہوتی ہیں۔ایک وہ جو محض اس لئے کھرے ہوتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کریں اور امر بالمعروف کا جو فرص اُن کو ملا ہے۔اس کو ادا کریں۔بنی نوع انسان کی بھلائی کا جو حکم ہے اس کی تعمیل کریں۔اور اپنے آپ کو اس خیرامّت میں داخل ہونے کی فکر ہوتی ہے جس کا ذکر یوں فرمایا گیا ہے۔کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّتٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( اٰلِ عمران:۱۱۱) تم بہترین اُمّت ہو جو لوگوں کے لئے مبعوث ہوئے ہو۔امر بالمعروف کرتے رہو۔اور نہی عن المنکر۔اور ایک وہ ہوتے ہیں جن کی غرض دنیا کمانا بھی نہیں ہوتی مگر یہ غرض بھی نہیں ہوتی بلکہ وہ صرف حاضرین کو خوش کرنا چاہتے ہیں یا اُن کی واہ واہ کے خواہشمند کہ کیا خوش تقریر یا مؤثر واعظ ہے۔دینی واعظوں میں سے پہلی قسم کے واعظ بھی فتوحات ہی کا ارادہ کرتے ہیں مگر ملکی فتوحات سے ان کی فتوحات نرالی ہوتی ہیں۔ان کی فتوحات یہ ہوتی ہیں کہ برائیوں پر فتح حاصل کریں۔نیکی کی حکومت کو وسیع کریں۔جیسے واعظوں کی دو قسم ہیں۔ایسے ہی سننے والوں کی بھی دو حالتیں ہوتی ہیں۔ایک وہ جو محض اﷲ کے لئے سنتے ہیں کہ اس کو سُن کر اپنی اصلاح کریں اور دوسرے جو اس لحاظ سنتے ہیں کہ واعظ ان کا دوست ہے یا کوئی ایسے ہی تعلق رکھتا ہے۔یعنی واعظ کی خاطرداری سے۔اب تم دیکھ لو کہ تمہارا واعظ کیسا ہے اور تم سننے والے کیسے! تمہارا دل تمہارے ساتھ ہے۔اس کا فیصلہ تم کر لو۔مَیں جس نیت اور غرض سے کھڑا ہوا ہوں۔وہ مَیں خوب جانتا ہوں۔اور اﷲ تعالیٰ جانتا ہے کہ دردِ دل کے ساتھ خدا ہی کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم نے بھی ایک تقسیم فرمائی ہے کہ واعظ یا مامور ہوتا ہے یا امیر یا متکبّر امیر وہ ہوتا ہے۔جس کو براہِ راست اس کام کے لئے مقرر کیا جاوے اور مامور وہ ہوتا ہے جس کو امیر کہے کہ تم لوگوں کو وعظ سنا دو۔اور متکبّر وہ ہے جو محض ذاتی بڑائی اور نمود کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔پس یہ اقسام واعظوں کی ہیں۔اب میں پھر تمہیں کہتا ہوں کہ اس بات پر غور کرو کہ تمہیں وعظ کہنے والا کیسا ہے۔اور تم کیسا دل لے کر بیٹھے ہو۔میرا دل اﷲ تعالیٰ کے حضور حاضر ناظر ہے جو بات میری سمجھ میں مضبوط آئی ہے اُسے