حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 496
استحاکام و حفاظتِ مذہب کے لئے دیکھو۔کس قدر مذاہب دنیا میں اﷲ تعالیف کی طرف سے آئے۔اس کی حفاظت کا ذمّہ دار خود ان لوگوں کو بنایا۔مگر قرآن کریم کی پاک تعلیم کے لئے فرمایا۔اِنَّالَہٗ لَحَافِظُوْنَ ( الحجر:۱۰) یہ کیا کوثر ہے۔اﷲ تعالیٰ اس دین کی حمایت و حفاظت اور نصرت کے لئے تائید فرماتا اور مخلص بندوں کو دنیا میں بھیجتا ہے جو اپنے کمالات اور تعلقاتب الہٰیہ میں ایک نمونہ ہوتے ہیں۔ان کو دیکھ کر پتہ لگ سکتا ہے کہ کیونکر بندہ خدا کو اپنا لیتا ہے۔اس ہستی کو دیکھو۔انسان اور اس کی ہرکات کو دیکھو جب خدا بنانے پر آتا ہے۔تو اسی عاجز انسان کو اپنا بنا کر دکھا دیتا تھا۔ایک اُجڑی بستی کو اس سے آباد کرتا ہے۔کیا تعجب انگیز نظارہ ہے۔بڑے بڑے شہروں اور بڑے اکڑ باز مدبّڑوں کو محروم کر دیتا ہے حالانکہ وہاں ہر قسم کی ترقی کے اسباب موجود ہوتے ہیں اور علم و واقفیت کے ذرائع وسیع ہوتے ہیں۔مثلاً دیکھو کسی بستی کو برگزیدہ کیا۔جہاں نہ ترقی کے اسباب نہ معلومات کی توسیع کے وسائل۔نہ علمی چرچے نہ مذہبی تذکرے۔نہ کوئی دارالعلوم۔نہ کتب خانہ۔صرف خدائی ہاتھ ہے جس نے تربیت کی اور اپنی تربیت کا عظیم الشان نشان دکھایا۔غور کرو۔کس طرح یہ بتلاتا ہے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو خدا نے کیا کوثر عطا فرمایا۔لیکن غافل انسان نہیں سوچتا۔افسوس تو یہ ہے کہ جیسے اَور لوگوں نے غفلت اور سُستی کی۔ویسے ہی غفلت کا شکار مسلمان بھی ہوئے۔آہ۔اگر وہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے عالی مدارج پر خیال کرتے اور خود بھی اُن میں حصّہ لینے کے آرزو مند ہوتے تو اﷲ تعالیٰ اُن کو بھی کوثر دیتا مَیں نے جو کچھ اب تل بیان کیا۔یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دنیاوی کوثر کا ذکر تھا۔پھر مرنے کے بعد ایک اور کوثر برزخ میں حِشر میںگ صراط پر، بہشت میں، عرض کوثر ہی کوثر دیکھے گا۔اسی کوثر میں ہر ایک شخص شریک ہو سکتا ہے مگر شرط یہ ہے۔: اﷲ تعالیٰ کی تعظیم میں لگو۔دیکھو۔اُس آدمِ کامل کا پاک نام ابراہیم ھی تھا۔جس کی تعریف اﷲ تعالیف خود فرماتا ہے۔وَ اِبْرَاھِیْمَ الَّذِی وَفيّٰ ( النجم: ۳۸) اور وہی ابراہیم جو جَائَ رَبَّہٗ بِقَلْبً سَلِیْمٍ (الصّٰفّٰت:۸۵) کا مصداق تھا۔سچی تعظیم الہٰی کر کے دکھائی۔جیسے مولیٰ کریم فرماتا ہے۔(البقرہ:۱۲۵) پھر کیانتیجہ پایا۔الہٰی تعظیم جس قدر کوئی انسان کر کے دکھاتا ہے۔اسی قدر ثمراتِ عظیمہ حاصل کرتا ہے۔مثلاً حضرت ابوالملّث ابراہیم کو دیکھو، اس کی دعاؤں کا نمونہ ، دیکھو ہمارے سیّد و مولیٰ اصفی الاصیفاء