حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 487 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 487

ہے کہ میں صلوٰۃسے مراد فرض نماز ہے اور قربانی سے مراد عیدالاضحٰی کی قربانی ہے۔اور ابن جریر نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ نماز سے مراد عیدالاضحٰے کی نماز ہے۔اور قربانی سے مراد بھی اس عید کی قربانی ہے۔اس کے بعد عربی تفسیر میں صرف و نحو کا وہ حصّہ ہے جو عام فہم نہیں ہے۔اس واسطے اس کو چھوڑا جاتق ہے۔لیکن اس میں سے چند باتیں بطور اختصار کے درج کی جاتی ہیں۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کے واسطے عطائے کوثر کے بیان میں اﷲ تعالیٰ نے اوّل حرف تاکید کا فرمایا ہے۔پھر صیغہ ماضی میں بیان کیا ہے۔یہ بھی ایک تاکید ہے۔اور دیگر صرفی نحوی تاکیدیں بھی ان الفاظ میں ہیں جس سے اﷲ تعالیٰ کے کاص فضل کا اظہار آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر ہوتا ہے۔آپؐکے واسطے کوثر کا ملنا ایک امر مقدّر ہے۔جو اﷲ تعالیٰ کی صفت رحیمیّت سے آپ کو عطا ہوا ہے۔ایسا لفظ اَعْطٰی کا استعمال بھی اسی فضلِ عظیم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ورنہ صرف دینے کے مفہوم کے واسطے عربی میں لفظ اَتٰی بھی آ سکتا تھا۔ایسا ہی اس میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے کَ کے ساتھ خطاب فرمایا ہے۔کہ ہم نے تجھے کوثر عطا کیا ہے اور ایسا نہیں فرمایا کہ ہم نے اپنے رسولؐ یا نبی یا عبد کو کوثر عطا کیا ہے۔اس میں بھی رحمانیت کے خاص فصل اور عطاء کا تذکرہ ظاہر کیا ہے۔ایسا ہی میں بھی دشمن کے بے نسل ہونے کو بہت سی تاکیدوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے یہ بات ضرور ہو جانے والی ہے۔اس سورۃ کا پہلی سورۃ ( الماعون)سے یہ تعلق ہے۔کہ سورہ ماعون میں ایسے شخص کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ مکذّب بالدّین۔بخیل۔تارکِ صلوٰۃ۔ریاکار۔مانِع زکوٰۃ۔اور مانعب ماعون ہے اور اس سورۃ شریف میں ایسے آدمی کا ذکر ہے۔جو اُن بُری عادات کے بالمقابل تمام نیک صفات سے متصف ہے۔وہ مکذّب تھا تو یہ اوّل المومنین اور مصدق ہے۔خدا کی طرف سے اسے کوثر عطا کیا گیا۔وہ بخیل اور مانعِ زکوٰۃ اور مانعِ ماعون تھا تو یہ وَانْحَرُ کے حکم پر چلنے والا ہے۔وہ تارکِ صلوٰۃ اور ریاکار تھا تو یہ فَصَلِّ کی پیروی کرنیوالا ہے۔اور وہ بھی لِرَبِّکَ خدا کے واسطے۔کسی انسان کے واسطے نہیں۔کسی کو دکھانے کے واسطے نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۷؍اکتوبر ۱۹۱۲ء) کوثر جنّت کی ایک نہر کا نام ہے۔اور کوثر خیرِ کثیر کو کہتے ہیں۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ نہر بھی خیر کثیر سے ہے۔اور خیرِ کثیر میں وہ بہت سی باتیں شامل ہیں جو ہمارے نبی کریم خاتم النبیین رب العٰلمین کے رسول اور گنہ گاروں کے شفیع کو اﷲ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے۔