حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 486 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 486

وہ گمان کرتا ہے کہ وہ ہم سے بہتر ہے۔حالانکہ ہم وہ ہیں جو لوگوں کو حج کراتے ہیں اور لوگوں کو پانی پلاتے ہیں اور لوگوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں۔کعب بن اشرف نے کہا نہیں تو اس سے اچھے ہو اس پر یہ سورۃ نازل ہوئی۔اصحابِ رسول صلی اﷲ علیہ وسلم اور تابعین رضوان اﷲ علیہم اجمعین کے آثار سے باقی تفسیر اس طرح سے ہے۔کہ ابن ابی حاتم نے حسن سے روایت کی ہے۔کہ کوثر کے معنے ہیں۔قرآن شریف۔اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم اور ابن عسا کرنے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ کوثر اس کا نام ہے جو اﷲ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو نبوت اور خیر اور قرآن شریف عطا کیا تھا اور ابن ابی حاتم اور حاکم اور ابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی کتاب میں حصرت علی رضی اﷲ عنہ سے یہ روایت کی ہے کہ جب سورۂ کوثر نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تو آنحصرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے جبرئیل سے کہا کہ اس وحی الہٰی میں نَحَر سے کیا مراد ہے جس کا حکم خدا تعالیٰ نے مجھے دیا ہے۔حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ اس سے مراد کوئی قربانی نہیں ہے۔بلکہ خدا تعالیٰ نے اس میں آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ جب آپ نماز پڑھیں اور اﷲ اکبر کہیں تو اس وقت اپنے ہاتھ اٹھایا کریں اور جب رکوع کریں اور جب رکوع سے سر اٹھائیں تو اس وقت بھی ہاتھ اٹھایا کریں۔یہ ہماری نماز ہے اور یہی ان سب فرشتوں کی نماز ہے جو کہ سات آسمانوں میں ہیں۔اور ہر ایک چیز کے واسطے ایک زینت ہوتی ہے۔پس نماز کی زینت یہ ہے کہ ہر ایک تکبیر کے وقت رفع یَدَیْن کی جاوے۔حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رفع یَدَیْن کرنا وہ استکانت ہے۔جس کا ذکر قرآن شریف کی اس آیت میں ہے کہ فَمَا اسْتَکَانُوْا لِرَبِّھِمْ وَمَا یَتنضَرَّعُوْنَ ( المومنوں :۷۷)اور ابن ابی شیبہ سے روایت ہے اور بکاری اور ابن جریر اور ابن المنذر اور ابن ابی حاتم اور دارقطنی اور ابولشیخ اور حاکم اور ابن مردوَیہ اور بیہقی نے حضرت علی ابن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے کے متعلق روایت کی ہے کہ آپ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں کلائی کے وسط پر رکھا اور پھر دونوں ہاتھوں کو نماز میں اپنے سینہ پر رکھا اور ابوالشیک اور بیہقی نے اپنی کتاب میں حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے۔کہ آنحصرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔اور ابن ابی حاتم اور ابن مردوَیہ اور بیہقی نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت کی ہے کہ سے یہ مراد ہے کہ اپنی قربانی لے کر قبلہ کی طرف متوجہ ہو۔اور ابن جریر اور ابن المنذر نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی