حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 485 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 485

میرے رب نے مجھے عطا کی ہے۔وہ نہر جنت میں ہے۔اس میں خیر کثیر ہے۔قیامت کے روز میری امّت اس پروارد ہو گی۔اس کا برتن ستاروں جتنا وسیع ہے۔ان میں سے ایک آدمی اس پر سے ہٹایا جاوے گا تو میں کہوں گا کہ میرے ربّ۔یہ تو میری اُمت کا آدمی ہے۔اسے کیوں ہٹایا جاتا ہے۔تو جواب ملے گا کہ تو نہیں جانتا کہ اس نے تیرے بعد کیسی نئی باتیں نکالی تھیں۔حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ کوثر اس خیر کا نام ہے جو اﷲ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو عطا کی ہے۔ابوبشر لکھتا ہے کہ میں نے سعید ابن جبیر کو کہا کہ لوگ تو خیال کرتے ہیں کہ کوثر جنّت میں نہر کا نام ہے۔اور آپ کہتے ہیں وہ خیر ہے تو سعید نے کہا کہ جنت میں جو نہر ہے وہ بھی اسی خیر میں سے ہے۔جو اﷲ تعالیٰ نے رسول ؐ کو عطا کی ہے۔حدیث شریف کی کتاب نسائی میں فِی الْجَنَّۃِ کی بجائے فی بَطْنَانِ الْجَنَّۃِ آیا ہے اور بَطْنَانِ الْجَنَّۃِ کے معنے ہیں بہشت کے وسط میں۔ابن ابی شیبہ اور احمد اور ترمذی نے یہ روایت بیان کی ہے اور اس کو صحیح بتلایا ہے اور بان ماجہ اور بان جریر اور ابن المنذر اور ابن مردویہ نے بھی یہ روایت بیان کی ہے۔کہ وہ نہر موتیوں پر اور یاقوت پر جاری ہے۔اس کی مٹی کستوری سے زیادہ خوشبودار ہے اور اس کا پانی دودھ سے بھی زیادہ سفید ہے۔اور شہد سے بھی زیادہ میٹھا ہے۔اور نافع بن ارزق نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے پوچھا کہ کوثر کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ کوثر ایک نہر کا نام ہے جو کہ بہشت کے وسط میں ہے اور اس کے ارد گرد موتیوں کے اور یا قوت کے خیمے ہیں۔اس میں بیویاں اورخدّام ہیں۔نافع نے کہا کہ اہلِ عرب ان معنوں سے واقف ہیں؟ حضرت ابنِ عباسؓ نے فرمایا کہ ہاں واقف ہیں۔کیا آپ نے حسانؓ ابن ثابت کا یہ شعر نہیں سنا۔وَحَیّاہم الْاِلٰہُ بِالْکَوْثَرِ الْاَکْبَرِ فِیْہِ النَّعِیْمُ وَالْخَیْرَاتُ ترجمہ شعر: اور خدا نے اسے کوثر عطا کیا ہے۔برا کوثر جسمیں نعمتیں اور بھلائیاں ہیں۔لفظ کوثرؔ کثرت سے نکلا ہے اور اس کے معنے ہیں۔بہت ساری چیز۔بہت زیادہ۔کمیت شاعر کہتا ہے۔وَ اَنْثَ کَثبیْرٌ یَا ابْنَ مَرْوَانَ طَیِّبٌ وَ کَان اَبُوْکَ ابْنَ الْفَضَائِلِ کَوْثَراَ اے ابن مروان تو کثیر ہے اور لیّب ہے۔اور تیرا باپ بہت بڑھی ہوئی فضیلتوں والا تھا۔بزاز نے اور دوسروں نے سندِ صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ کعب بن اشرف ایک دفعہ مکّہ میں ایا تو قریش نے اُسے کہا کہ تو ہمارا سردار ہے۔کیا تو نہیں دیکھتا المنصبتر المنبتّر کی طرف