حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 480 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 480

: اپنی نماز سے : سہو کرنیوالے ہیں۔غفلت کرنے والے ہیں۔تساہل کرنیوالے ہیں۔اس آیت میں ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔جو نمزا کے معاملہ میں سُستی اور غفلت کرتے ہی۔مُصَلِّیْنَ وہ لوگ جو نماز کے واسطے مکلّف ہیں۔نماز میں غفلت کئی طرح سے ہوتی ہے۔۱۔بعض لوگ نماز پڑھتے ہی نہیں۔رسمی طور پر مسلمان کہلاتے ہیں۔مگر کبھی ان کو یہ خیال نہیں آتا کہ نماز کا پڑھنا مسلمان کے واسطے فرض ہے اور جب تک کہ وہ اپنے عین کاروبار کے درمیان وقتِ نماز کے آنے پر تمام دنیوی خیالات کو بالائے طاق رکھ کر خدا تعالیٰ کی طرف نہیں جھکتا۔تب تک اس میں اسلامی نشان نہیں پایا جاتا۔ہر ایک قوم والوں کے درمیان کوئی مذہبی نشان ہوتا ہے۔عیسائی لوگوں نے وہ نشان صلیب کا رکھا ہے۔جس کو وہ لکڑی یا لوہے یا چاندی سونے کی بنوا کر اپنی چھاتی یا سر پر اور معبد خانوں کے اوپر لگا دیتے ہیں۔اس واسطے عیسوی مذہب کو صلیبی مذہب کہتے ہیں۔اور عیسائیوں نے جو لڑائیاں اپنے مذہب کی خاطر مسلمانوں کے ساتھ کیں ان کو صلیبی جنگ کہتے ہیں۔ایسا ہی ہندو لوگ اپنے ہندو ہونے کی نشانی میں بدن پر ایک تاگہ رکھتے ہیں جسے زُنّار یا جینیو کہتے ہیں۔مسلمانوں کے درمیان ان کے اسلام کی نشانی یہی ہے کہ مسلمان ہر حالت رنج و راحت۔صحت و بیماری۔امن و جنگ میں اپنے وقت پر اپنے خدا تعالیٰ کے حصور میں حاضری بھرنے کے واسطے چُست ہو جاتا ہے۔عین جنگ کے موقعہ پر جہاں دشمنوں کے ساتھ لڑائی ہو رہی ہوتی ہے۔حضرت رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ صف بندی کر کے نماز پڑھتے اور پڑھاتے تھے۔اس سے بڑھ کر نماز کے واسطے اور کیا تاکید ہو سکتی ہے۔۲۔وہ لوگ جو نماز پڑھتے ہیں مگر کبھی کبھی جس دن کپڑے بدلے یا صبح کے وقت جب ہاتھ مُنہ دھویا اور نماز بھی اتفاق سے پڑھ لی یا جند ایسے دوستوں میں قابو آ گئے جو نماز پڑھتے ہیں۔تو وہاں ان کے درمیان مجبورًا پڑھ لی۔یہ لوگ بھی غفلت کرنیوالوں میں شامل ہیں۔۳۔پھر کچھ ایسے لوگ ہیں۔جو پڑھتے تو ہیں مگر بہ سبب تکبّر کے یا بہ سبب سُستی کے اپنے گھروں میں پڑھ لیتے ہیں ہر وقت اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔جب نماز کا وقت آیا تو اسی جگہ جلدی جلدی نماز پڑھ لی۔گویا ایک رسم ہے جس کو ادا کرتے ہیں یا ایک عادت ہے جس کو پورا کرتے ہیں۔مسجد میں نانا اور جماعت کو پانا ان کے نزدیک ایک بے فائدہ امر ہے۔یہ لوگ بھی غافلین میں شاملہ ہیں۔اکثر آجکل کے دنیوی رنگ میں برے لوگوں میں اگر کسی کو نماز کی عادت ہے۔( تو ایسی ہے)۔۴۔بعض لوگ مسجد میں بھی جا کر پڑھتے ہیں۔مگر بے دلی کے ساتھ۔ان میں تعدیلِ ارکان کا خیال