حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 479 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 479

ہے اور دنیوی اموال اور جاہ و حشم کو بالکل ترک کر دیا ہے۔اور وہ خدا کی خاطر ایک یتیم اور مسکین بن گیا ہے تب خدا تعالیٰ نے اس کو اپنی ہستی کے ثبوت کے واسطے ایک حُجّت اور نشان مقرر کر کے دوبارہ دنیا میں داخل کر دیا ہے۔خداوند تعالیٰ کے تمام انبیاء کا یہی حال ہوتا ہے۔اور وہ لوگ جو دنیا میں عام طور پر اپنی بے دینی کے باعث یتامٰی اور مساکین پر ظلم روا رکھتے ہیں۔وہ اپنی عادت کے مطابق آیات اﷲ کے ساتھ ٹکّر کھا کر اپنی بے دینی کے باعث یتامٰی اور مساکین پر ظلم روا رکھتے ہیں۔وہ اپنی عادت کے مطابق آیات اﷲ کے ساتھ ٹکّر کھا کر اپنی بداعمالیوں کا آخری نتیجہ پا لیتے ہیں۔جن لوگوں نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو ایک یتیم اور مسکین، بے کس اور بے بس ایک اکیلا انسان سمجھا۔اور آپؐ کے ساتھیوں کو چند غرباء ضعفاء کے سوائے نہ پایا اور آپؐ کے قتل کے درپے ہوئے۔خدا تعالیٰ نے ان کے منصوبوں کو ایسا خاک میں ملایا۔اور ان کو ایسی ناکامی کا مُنہ آنحضرت ؐ کے سامنے ہی دکھایا کہ اس کی نظیر تاریخ کے معرکہ ہائے جنگ و جدال میں نظر نہیں اتی۔ایسا ہی اس زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ کا ایک مُرسل ہمارے درمیان موجود ہے۔جس نے آبائی عزّت و جاہ اور اموال و جاگیر کو اپنے خدا کی محبّت کے آگے ہیچ جان کر سب کچھ ترک کیا اور گوشہ میں بیٹھ کر گمنامی کے درمیان اپنے خدا کی یاد کو سب باتوں پر ترجیح دی۔دنیا نے اس کو یتیم اور مسکین دیکھا۔اور دنیا کے فرزندوں نے چاہا کہ ااس مسکین کو کھانا نہ دے اور نہ اس کو ملے۔اور نہ اس کے ساتھ کوئی بات کرے اور اس کے حق میں سخت سے سخت کُفر کے فتوے لگائے لیکن خدا تعالیٰ کا غضب ایسے کفربازوں پر نازل ہوا اور ان کے نوجوانوں کو کھا گیا اور ان کے بچوں کو یتیم کر گیا اور ان کے گھروں کو ویران کر گیا۔پر وہ جس کے لئے کہا گیا کہ کوئی اس کو کھانا نہ دے۔اس کا گھر خدا نے ہر قسم کی نعمتوں کے ساتھ بھر دیا۔پس بڑا بد نصیب وہ ہے جو خدا کے فرستادہ کو یتیم اور مسکین دیکھ کر دھکے دے اور دوسروں کو بھی اُس کے پاس جانے سے روکے۔۵،۶۔۔۔: پس وائے ہے۔پس افسوس ہے۔پس ہلاکت ہے۔: واسطے نمازیوں کے : وہ جو : وہ