حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 478
طرف توجہ رکھتا ہے۔کیونکہ نماز سے تساہل کرنیوالا ہے اور ادنیٰ چیزوں سے جو گھر کے اندر عام استعمال میں آتی ہیں۔ایک دوسرے کو برتنے سے منع کرتا ہے۔اور اخلاق کے ادنیٰ مراتب سے بھی گرا ہوا ہے۔۱۔نماز پڑھتا ہی نہیں ۲۔یتیم کو دھکّے دیتا ہے ۳۔مسکین کو کھانا نہیں دیتا ۴۔ادنیٰ چیزوں کے باہمی استعمال سے مضائقہ کرتا ہے۔شیخ سعدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔؎ بخیل از بود زاہد و بہرہ ور بہشتی نباشد بحکم خبر ۳۔۔: پس یہی ہے : وہ جو : دھکے دیتا ہے : یتیم کو یتیم کی اہانت کرنیوالے اور اس پر سختی کرنیوالے کو اﷲ تعالیف نے ان لوگوں کے درمیان سمار فرمایا ہے جو کہ دین کے مکذّب ہیں۔یتیم سب ضعیفوں سے زیادہ ضعیف ہے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم یتیم کا بہت خیال رکھتے تھے۔اور یتامٰی کی بہت خبرگیری کرتے تھے۔ہماری انجمن اشاعتِ اسلام نے بھی اپنے اخراجات میں ایک مدّ یتامٰی کی رکھی ہے۔اور مدرسہ تعلیم الاسلام میں بہت سے یتیم پرورش پا رہے ہیں۔جن کے ہر قسم کے اخراجات تعلیمی اور پوشاک و خوراک وغیرہ کے انجمن برداشت کر رہی ہے۔۴۔۔: اور نہیں رغبت دلاتا اور نہیں تاکید کرتا۔: مسکین کے کھانا کھلانے پر۔یہ دوسری مذمت مکذّب کی ہے کہ اوّل تو یتیم کو دھکّے دیتا ہے۔اور دوم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتا۔اور نہ کسی دوسرے کو اس امر کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ مسکین کو کھانا کھلایا کرے۔اس جگہ مکذّب کی دو بڑی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ایک یہ کہ یتیم کو دھکے دیتا ہے۔اور دوم یہ کہ مسکین کو کھانا نہیں دیتا۔مسکین اور یتیم ہر دو عام لفظ ہیں۔اور ہر ایک شخص جو مساکین اور یتامٰی کے ساتھ بدسلوکی کریگا۔وہ خدا تعالیٰ کے غضب کو اپنے اوپر وارد کریگا۔لیکن اس میں ایک باریک اشارہ ایک خاص یتیم اور مسکین کی طرف ہے۔جس نے اﷲ تعالیٰ کی خاطر دنیوی تعلقات کو قطع کر دیا ہے