حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 477 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 477

انسان زندگی گزار کر مر جاتا ہے۔اور بس۔پھر کچھ نہیں۔ایسے لوگ اس زمانہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔وہ مادی لوگ میٹریَلسٹ کہلاتے ہیں۔انبیاء علہیم السلام کے برے اور عظیم الشان کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ایمان بالآخرت پر قائم کریں۔اخلاقی اور تمدّنی حیثیت سے بھی یوم الدین پر ایمان کا قائم کرنا امن و امان کے قیام کے واسطے نہایت صروری ہے۔جو شخص اعمال کی جزا و سزا کا قائل نہیں۔وہ بے دھڑک ہو کر جس کا مال چاہے گا ناجائز طور پر کھائے گا۔ظاہری سلطنتیں دلوں کو درست کرنے سے قاصر ہیں۔دلوں کو راہِ راست پر لانا صرف روحانی سلطنتوں کا کام ہے جو انبیاء اور اولیاء کے ذریعہ سے دنیا میں ہمیشہ قائم ہوتی ہیں۔اسی پر حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے۔کہ مَیں گورنمنٹ برطانیہ کی سلطنت کی حفاظت کے واسطے ایک تعویز ہوں۔کیونہ آپ مخلوق کے دلوں میں تقوٰی اور راستی کی بنیاد ڈال رہے ہیں۔گورنمنٹ کے برخلاف جہادی خیالات جو اس ملک میں مشنری۔عیسائی پادری۔مسلمان ملّاں اور آریہ لوگ پھیلا رہے ہیں اس کو اعتقادی رنگ میں لوگوں کے دلوں سے نکال رہے ہیں اور علاوہ اس کے اپنے مریدوں سے یہ اقرار لیتے ہیں کہ وہ ہمیشہ نیکی کو اختیار کریں۔راست بازی پر چلیں بدی کو چھوڑ دیں۔کسی قسم کی بغاوت میں ہرگز شامل نہ ہوں۔جو لوگ جزا و سزا کے قائل نہیں وہ دنیوی مصائب سے گھبرا کر خود کشی کر لیتے ہیں۔تاکہ اس عذاب سے چھُوت جاویں۔اگر ان کو معلوم ہوتا اور یقین ہوتا کہ آگے ایک اَور عذاب اس کے واسطے موجود ہے تو وہ ایسا نہ کرتے۔یہ یوم الدّین کے انکار کا سبب ہے کہ یورپ امریکہ میں اس کثرت کے ساتھ خودکشیہر سال ہوتی ہے۔ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت اقدس مرزا صاحب کی خدمت میں کط لکھا کہ میں دنیوی مصائب سے تنگ ہوں اور چاہتا ہوں کہ خود کشی کر لوں۔حضرت نے اس کو جواب لکھا کہ خودکشی سے کیا فائدہ؟ مرنے سے انسان کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔بلکہ ایک نئی زندگی شروع ہوتی ہے۔خود کشی کرنا گناہ ہے اور اس کے واسطے عذاب ہے اس سے بچنا چاہیئے۔دین کے معنے مذہب کے بھی ہیں۔اس صورت میں کے یہ معنے ہیں کہ کیا تُو نے اس شخص کو دیکھا ہے جو دین کو جھٹلاتا ہے اور آگے تشریح ہے کہ دین کے جھٹلانے سے اس جگہ کیا مراد ہے۔یتیم کو جھڑکنا۔مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہ دینا۔نماز سے لاپرواہی کرنا ریاکاری کرنا۔ماعون سے روکنا۔ایسا آدمی خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے ہے۔اور وہ دین کو جھٹلانے والا ہے۔کیونکہ ایسا کرنیوالا درستگیٔ اعتقاد یعنی ایمان متعلق جزاء سزاء سے بے بہرہ ہے۔اور تہذیب اخلاق سے بھی عاری ہے۔کیونکہ نہ وہ دفعِ شر کرتا ہے اور نہ طلبِ منفعت کرتا ہے اور نہ وہ تزکیہ نفس کی طرف