حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 473 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 473

سُوْرَۃَ الْمَاعُوْنِ مَکِّیَّۃٌ عربی تفسیر کا ترجمہ: کیا تو نے اس شخص کا حال دیکھا ہے۔جو دین کو جھٹلاتا ہے۔ایسے ہی ایک مکذّب ابرھہ نام شاہ حبش کا ذکر اس سورہ شریف سے پہلے سورہ فِیل میں ہو چکا ہے۔اور کہ کیا تو اس مکذّب کو جانتا ہے۔یہ استفہام اس واسطے ہے کہ سننے والہ کو اس مکذّب کے معلوم کرنے کا خیال پیدا ہو۔دین سے مراد اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ثواب اور عقاب ہے۔جو کہ انسان کو اس کے اعمال پر ملتا ہے۔مکذّب وہ ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم کی اطاعت نہ کرے اور اس کی مناہی سے پرہیز نہ کرے اور ابن عباس نے لکھا ہے کہ مکذّب وہ ہے۔جو خدا کے حکم کی تکذیب کرے اور ابن جریح اور مجاہد نے کہا ہے کہ مکذّب وہ ہے۔جو وقتِ حساب کا انکار کرے۔آیت شریفہ میں فؔ سبب کے لئے ہے۔کسی یتیم کو دھکے دینے کا فعل اس کے لئے مکذّبِ دین ہونے کا سبب ہو جاتا ہے۔اور اس میں ذٰلِکَ کا اشارہ تحقیر کے واسطے ہے۔اور علّتِ حکم کے بتانے کے لئے اور موصول صلہ کی تحقیق کے لئے۔یَدُعُّ کے معنے ہیں۔دفع کرتا ہے۔جیسا کہ ابوطالب کے شعر میں ہے۔یَقْسِمُ حَقَّا لِلْیَتِیْمِ وَ لَمْ یَکُنْ یَدُعُ الَّذِیْ یسارِ عَنِّ الْاصاغِر جس کے معنے ہیں: یتیم کو اس کا حق تقسیم کرتا ہے۔اور امراء کی خاطر غرباء کو دھکّے نہیں دیتا۔اور یتیم کا حق مارتا ہے۔یہ ابن عباس کا قول ہے۔اور قتادہ کا قول ہے کہ یتیم پر قہر کرتا اور ظلم کرتا ہے یہ اس شریر کی بداعمالی کیسی عجیب ہے کہ کھانا کھلانے اور امن دینے کے بدلے دھکے دیتا ہے۔یَحُضُّ کے معنے ہیں کہ دوسرے کو اس امر کی ترغیب دیتا ہے کہ محتاج کو کھلائے اور دراصل سب کو خدا تعالیٰ کھانا کھلاتا ہے۔