حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 469
کے ہر ایک حصّہ میں مسلمان خدا تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہوتے ہیں۔کیونکہ ایک ہی سیکند میں کہیں عصر ہے کہیں مغرب کہیں عشاء۔کہیں فجر اور کہیں ظہر۔ان کے علاوہ تہجد اور اشراق اور دوسری نمازیں جدا ہیں۔غرض کوئی بھی ایسا وقت نہیں ہوتا جس میں روئے زمین پر کسی نہ کسی جگہ مسلمان خدا کی عبادت نہ کر رہے ہوں۔گویا مسلمان ہی ایک قوم ہے جس پر خدا تعالیف کے انوار کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ایسا ہی عبادت کے وقت ایک خاص سمت کا مقرر کرنا ایک عجیب حکمت رکھتا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کے سبب اہلِ ہند کا منہ عبادت کے وقت مغرب کی طرف ہوتا ہے۔اہلِ شام کا جنوب کی طرف اور اہلِ یمن کا شمال کی طرف۔اہلِ مصر کا مشرق کی طرف ہوتا ہے۔اور ان سمتوں کے درمیان جو مقام ہے ان کا منہ کم و بیس درجات کے ساتھ ان سمتوں کے درمیان ہوتا ہے۔الغرض کمپاس کا کوئی ایسا طرف نہیں جس طرف منہ کر کے مسلمان خدا کی عبادت نہیں کرتے۔گویا تمام روئے زمین پر اسلامی توحید کی شہادت کی لکیریں اس کثرت کے ساتھ ہر سمت سے گزرتی ہیں اور ہر وقت گزرتی ہیں کہ تمام روئے زمین ہر وقت مسلمانوں کی طرف سے خدا تعالیٰ کی توحید اور تحمید اور تسبیح سے پُر رہتی ہے۔کوئی اور مذہب دنیا میں ہے۔جو اس قدر خدا کی عبادت کرنے والا۔خدا کے کام بھی عجیب ہیں۔کسی کو اپنا برگزیدہ بندہ بنانا چاہتا ہے۔تو ایک غریب کو لیتا ہے۔جو غیر مشہور ہو اور ظاہری علوم سے دنیا کی نظر میں ناواقف ہو اور کچھ طاقت نہ رکھتا ہو۔نہ کوئی جتھا اس کے ساتھ ہو پھر اسے مامور بنا دیتا ہے۔چاردانگ عال میں اس کی قبولیت پھیلا دیتا ہے۔تمام عالموں سے برھ کر اُسے عالم بنا دیتا ہے۔اسے طاقتور ور ہستی کے ثبوت میں نشان بنانا چاہا۔تو کہاں بنایا۔عرب کے میدان میں۔جہاں نہ پانی ملے۔نہ چارہ۔نہ خوراک نہ سبزی۔نہ کوی بستی نہ کوئی ابادی نہ کوئی حفاظت کی جگہ۔پھر اسے آباد کیا تو ایسا کہ ساری دنیا اس کی طرف دوڑی چلی جاتی ہے۔تمام جہان کی دولت وہاں پہنچتی ہے۔ہر ملک و ملّت کا ادمی وہاں پایا جاتا ہے۔ہر زبان وہاں سمجھتی جاتی ہے۔طاقت کا یہ حال ہے کہ فوجی لحاظ سے کوئی حفاظت کا سامان نہیں۔پھر بھی سکندر رومی یونان سے نکال۔ہند تک فتح کیا۔واپسی پر عرب کی فتح کا ارادہ تھا۔راستہ میں ہی ہلاک ہو گیا۔خود اس زمانہ میں دجّال یورپ سے نکال اور ہند تک پہنچ گیا۔مگر وہی بیت اﷲ اس سے محفوظ رہا۔نبی کریمؐ نے دجّال کو دیکھا کہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہے۔وہ طواف بھی ایک تو یوں ہو گیا کہ بحیرہ قلزم۔بحیرہ عرب۔عدن سے ہو کر خلیج فارس میں دجّال گھوم رہا ہے۔اور اس کے آگے جو ہو گا وہ بھی ظاہر ہو جائے گا۔