حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 463 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 463

اور پھر میری آنکھوں کے سامنے بخارا۔سمرقند۔دہلی۔لکھنؤ اور طرابلس کی سلطنتیں مِٹ گئیں دہلی کے شہزادوں میں سے ایک کو میں نے جموّں میں ستار بجاتے میراسیوں کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھا۔(الفضل ۸؍اکتوبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۵) ۳۔۔کے معنے تدبیر کے اکارت ہونے کے ہیں۔کَمَا قَالَ اﷲُ تَعَالٰی۔اَضَلَّ اَعْمَالَھُمْ ( محمدؐ:۲) سورۃ محمدؐ کی اس آیت اور آیت بالا دونوں کا ایک ہی مطلب ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۶؍ستمبر۱۹۱۲ء) ۴۔۔ابابیل کے معنے جُھنڈ کے جُھنڈ۔یہ لفظ جمع ہے۔واحد اس کا نہیں ہوتا بعضوں نے اِبُول اِبْیال اور ابالہ اس کا واحد قرار دیا ہے۔غرضیکہ ابابیل کے معنے پَر ے باندھ کر قطار در قطار آنے والے جانوروں کے ہیں۔عرب کہا کرتے ہیں جَائَتِ الخیلُ اَبَابِیْل مِنْ ھٰھُنا وَ مِنْ ھٰھُنَا یعنی گھوڑوں کا لشکر قطار باندھ کر اس طرف سے اور اُس طرف سے آپہنچا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۶؍ستمبر۱۹۱۲ء) ۵۔۔کے معنے سخت کنکری کے ہیں۔سنگ اور گِل سے اس لفظ کو مرکب جنہوں نے کہا ہے غلطی کی ہے۔عربی جیسے وسیع اور بامعنی زبان کو اس طور پر مرکب کرنے کی کیا ضرورت، جس مقام پر یہ لشکر ہلاک ہوا۔وہ مزدلفہ اور منٰی کے درمیان کی جگہ ہے۔اب بھی حاجی لوگ رمی جمار کے لئے اسی میدان سے کنکریاں چُن کر ساتھ لے آتے ہیں اور ان سے رمی جمار کرتے ہیں۔علاباً علاج فاسد یا فصد اس کا مطلب ہو۔سجال اور ارسال ایک معنی ہیں۔بعضوں کی تحقیق ہے کہ جن کفّار پر وہ کنکریاں گرتی تھیں۔ان کو چیچک نکل آتی تھی۔مفصل بیان کتاب نور الدّین صفحہ ۱۲۹ میں دیکھیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۶؍ستمبر۱۹۱۲ء) : شکاری جانوروں کی عادت ہے کہ وہ گوشت کو پتھر پر مار کر