حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 456 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 456

ہم فرض نماز ادا کریں۔میرا یقین ہے کہ حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی آمد کی غرض ہے کہ اب قرآن شریف جیسی کتاب اور محمد (مصطفٰے) صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم جیسا رسول جس کے جا نشین ہمیشہ ہوتے رہیں گے اب دنیا میں نہ آئے گا۔عصر سے مراد حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کیجانشینوں کا زمانہ ہے۔اب اور کے لئے زمانہ نہیں رہا۔یہاں تک کہ دنیا کا زمانہ نہ ختم ہو۔اِنَّ الّاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ۔جس طرح زمانہ گھاٹے میں ہے، اسی طرح انسان۔ایک شخص مجھ سے کہنے لگا کہ زمانہ قدیم ہے۔میں نے کہا جب تم ماں کے پیٹ اور باپ کے نطفہ میں تھے۔وہ وقت اب ہے، اور جب تم مرو گے۔وہ زمانہ اب موجود ہے؟ کہا نہیں۔میں نے کہا۔ایک موجود ہے۔وہ معدوم ہے۔وہ موجود ہو گا۔انسان کا جسم ایک برف کی تجارت ہے۔اسی طرح زمانہ ہے۔اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔گھاٹے میں تو سب ہیں۔مگر ایک شخص مستثنیٰ ہے۔وہ کون؟ ایماندار کہ اس کو گھاٹا نہیں۔ایمان کیا ہے۔عیب الغیب ذات پر ایمان رکھنا۔اس کو مقدّس سمجھنا۔اس کی نافرمانی سے ڈرنا اور یہ یقین کرنا کہ اگر ہم نافرمان ہوں تو اس پاک زات کا قمرب ہاصل نہیں کر سکتے۔نماز پڑھنا اور سنوار کر پڑھنا۔لعو سے بجنا۔زکوٰۃ دینا۔اپنی شرم گاہوں کو محفوظ رکھنا۔اپنی امانتوں اور عہود کا لحاظ رکھنا۔اﷲ تعالیٰ کی ذات پاکگ صفات، افعال، اسماء۔اس کے محامد اور اس کی عبادات میں کسی کو شریک نہ کرنا۔ملائک کی نیک تحریک کو ماننا، انبیاء کی باتوں اور کتابوںل کو ماننا۔قرآن کریم تمام انبیاء کی باتوں اور کتابوں کے مجموعہ کا خلاصہ ہے۔فبیْھَا کُتُبٌ قنیِّمَۃٌ ( البینۃ:۴) قرآن کریم سب کتابوں کا محافظ ہے۔اس میں دلائل کو اور زیادہ کر دیا ہے۔اس کتاب ( قرآن کریم ) کو اپنا دستوگرالعمل بنانا، اس کو پڑھنا، سمجھنا، اس پر عمل کرنا، خدائے تعالیٰ سے توفیق مانگنا کہ اس پر خاتمہ ہو، جزا و سزا پر یقین کرنا، محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہل وسلم کو خاتم کمالاتِنبوّت و رسالت اور خاتم کمالات انسانیت یقین کرنا، دنیا میں جس قدر ہادی ان کے بعد اَور آئیں گے، سب انہی کے فیض سے آئے۔ہمارے مسیحؑ آئے مگر غلام احمدؑ ہو کر آئے۔وہ فرماتے ہیں: بعد از خدا بعشقِ محمدؐ مخبرّم گر کُفر ایں بود بخدا سخت کافرم یہ حضرت صاحب کا سچّا دعوٰی ہے اور اسی پر عمل در آمد ہے۔ایک نقطہ بھی دینِ اسلام سے علیحدہ ہونا ان کو پسند نہ تھا۔تم خدا تعالیف کی تعطیم کرو۔اس کی مخلوق کے ساتھ نیک سلوک کرو۔مخلوق کا لفظ میں نے بولا ہے۔تم ایسے بنو کہ درختوں، پہاڑوں، جانوروں سب پر تمہارے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا فضل نازل ہو۔مخلوقِ الہٰی پر شفقت کرو۔انسان پر جب تباہی آتی ہے۔تو اس کی وجہ سے سب پر تباہی ہوتی ہے۔