حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 42 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 42

: صیف و شتاء کے مطالعہ کے اختلاف کے اعتبار کہا۔( تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۸۳) ۲۰۔۔: بحیرہ قلزم و بحیرہ روم۔( تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۸۳) ۲۷۔۔بقاء صرف ذات الہٰی کے واسطے ہے۔دیکھو ۱۔تمطاؤس ۶ باب ۱۶۔لفظ وَجْہٌکے معنی لغت عربی میں دیکھو۔اَلْوَجْہُ مُسْتَقْبَلُ کُلِّ شَیْیئٍ وَ نَفْسُ الشَّییئِ یعنی وَجْہٌہر چیز کے حصّہ مقدّم اور نفس شے کو کہتے ہیں۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۱۴۷ طبع دوم) ۲۸۔۔: خدا کی توجہ جس شے میں ہے وہ رہ جائے گی۔باقی سب فنا۔( تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۸۳) ۳۴۔ ۔کوئی خوبی اگر کسی میں ہے تو اس کا پیدا کرنے والا وہی اﷲ ہے۔اسی طرح اگر تم کسی کی اس لئے اطاعت کرتے ہو کہ وہ محسن ہے۔تو سب محسنوں سے بڑا محسن تو اﷲ ہے۔جس نے تمہارے محسن کو بھی سب سامان اپنی جناب سے دیا اور پھر اس سامان سے تمتع حاصل کرنے کے موقعے دئے اور قوٰی بھی اُسی کے دئے ہوئے ہیں۔اگر کسی کی اطاعت اس لئے کرتے ہو کہ وہ بادشاہ حکمران ہے۔تو تم خیال کرو۔ا ﷲ وہ احکم الحاکمین ہے۔جس کا احاطہ سلطنت اس قدر و سیع ہے کہ تم اس سے نکل کر کہیں باہر نہیں جا سکتے چنانچہ فرماتا ہے۔……۔