حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 453
حج۔اخلاقِ فاضلہ۔بدیوں سے بچنا۔یہ سب ایمان کے نتائج ہیں۔پھر اسی پر مومن سبکدوش نہیں بلکہ اس کا فرص ہے کہ جو حق پایا ہے۔اسے دوسروں کو بھی پہنجائے۔اور اس حق پہنچانے میں جو تکلیف پہنچے۔اس پر صبر کرے۔اور صبر کی تعلیم دے۔صوفیاء میں ایک ملامتی فرقہ ہے۔وہ بظاہر ایسے کام کرتا ہے۔جس سے لوگ ملامت کریں۔رنڈیوں کے گھروں میں کسی دوست کے سامنے چلے جائیں گے۔وہاں جا کر پڑھیں گے قران سریف اور نماز۔مگر رات وہیں بسر کریں گے حضرت صاحب نے مجھے فرمایا۔کہ آمر بالمعروف اور ناھی عن المنکر خود ملامتی فرقہ ہوتا ہے۔جب مومن کسی کو بُری رسوم و عادات کی ظلمت سے روکے گا تو تاریکی کے فرزندوں سے ملامت سنے گا۔میرا حال دیکھ لو کہ ملامتی فرقے والے مجھ سے زیادہ بدنام ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔پس مومن کو کسی فرقے میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں۔بلکہ وہ حق کا مبلغ اور اس پر مستقل مزاجی اور استقامت سے قائم رہے۔پھر وہ ہر قسم کے دنیا و آخرت کے خُسران سے محفوظ رہے گا۔(بدر ۳؍ فروری ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۔۲) میں دیکھتا ہوں کہ کچھ امراء ہیں۔کچھ علماء۔کچھ سجادہ نشین اور کچھ وہ لوگ ہیں جو قوم کے لئے آئندہ کالجوں میں تعلیم پانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔یہ لوگ اگر سُست ہوں تو عوام مخلوقات کا کیا حال ہو سکتا ہے۔اس واسطے مَیں نے یہ سورۃ عصر پڑھی تھی۔میرا مقصد اس کے پڑھنے سے یہ بتانے کا ہے۔کہ زمانہ جس طرح کی تیزی سے گزر رہا ہے۔اسی طرح ہماری عمریں بھی گزر رہی ہیں۔یعنی عصر کا آناً فاناً گزرنا ہماری عمروں پر اثر ڈال رہا ہے۔اﷲ نے اس کا یہ علاج بتایا ہے کہ تمہیں زمانہ کی پرواہ نہ ہو اگر ہمارا حکم مان لو۔وہ حکم یہ ہے کہ مومن بنو اور عملِ صالح کرو۔دوسروں کو مومن بناؤاور حق کی وصیت کرو۔پھر حق پہنچانے میں تکالیف سے نہ ڈرو۔یہ وہ سورۃ ہے کہ صحابہ کرامؓ جب باہم ملتے تو اس سورث کو پڑھ لیا کرتے۔تم اور ہم بھی آج مِلے ہیں۔اس لئے اسی سنّتب کریمہ کے نطابق میں نے اس کو پڑھا ہے…اسلام چونکہ حق کے اظہار کے لئے ایا ہے۔جیسا کہ اس سورۂ سریف سے ظاہر ہے۔اس لئے جہاں دین کی بہت سی باتیں پہنچانی پڑتی ہیں۔وہاں ہم تم کو دنیا کے متعلق بھی ایک مختصر سی بات سناتے ہیں اور وہ بھی در اصل دین ہی کی بات ہے وہ یہ ہے کہ دنیا کا کام امن پر موقوف ہے۔اور اگر امن دنیا میں قائم نہ رہے تو کوئی کام نہیں ہو سکتا۔جس قدر امن ہو گا۔اسی قدر اسلام ترقی کرے گا۔اس لئے ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ واﷲ آلہٖ وسلم امن کے