حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 445
سُوْرَۃَ الْقَارِعَۃِ مَکِّیَّۃٌ ۲،۳۔۔۔: قَارِعَۃ قرع سے مشتق ہے۔قَرَع کے معنے کسی چیز کو سختی اور شدّت سے بجانے اور مارنے کے ہیں۔خوفناک حادثہ اور مصیبت کو بھی قارعۃ اسی لئے کہتے ہیں۔قرآن شریف میں دوسری جگہ فرمایا ہے۔(الرعد: ۳۲) معلوم ہو کہ دنیا کا عذاب بھی قارعہؔہے اور آخرت کی مصیبت بھی قارعہ ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍ستمبر ۱۹۱۲ء) ۵۔۔فَرَاش : ٹڈّیاں بلکہ کُل پَردار چھوٹے چھوٹے جانور جو چراغ کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔مَبْثُوْث :منتشر۔بکھرے ہوئے (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍ستمبر ۱۹۱۲ء) ۶۔۔عِھْن: اُون یا صوف مختلف رنگ۔نفش کے معنے دُھنکنے کے ہیں۔مَنْفُوْش دُھنکے ہوئے۔جبال کا اطلاق بڑے بڑے بادشاہوں پر بھی کیا جاتا ہے۔آیت میں دونوں قسم کے عذاب اور تباہیوں کا ذکر ہے۔جو جنگوں میں ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی ہوں گے۔جیسا کہ تُصِیْھُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَۃٌ (الرعد:۳۲) سے واضح ہے۔۹ تا ۱۲۔۔۔