حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 444
شَدِیْد کے معنے بخیل اور مُمْسِک کے بھیہیں۔فَلَانٌ شَدِیْدٌوَ تَسَدَّدَ۔خَیْر بمعنی مال۔جیسا کہ فرمایا اِنْ تَرَکَ خَیْرَا الْوَصِیَّۃُ ( بقرہ: ا۱۸) حُبّ کے لُغت کے معنے پُر ہونے اور بھر جانے کے ہیں۔معنے آیت یہ ہیں۔کہ دل کے ہر گوشتہ میں مال کی محبّت جاگزیں ہو گئی اور پُر ہو گئی ہے۔کہ رب کی وفاداری کے لئے کوئی گوشہ خالی نہیں رہا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍ستمبر ۱۹۱۲ء) ۱۰ تا ۱۲۔۔۔۔بُعْثِرَ کے معنے وَاِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثدِرَتْ ( الانفطار:۵) میں بیان ہو چکے ہیں۔بُعْثر اور بحثر کے ایک ہی معنے ہیں۔اور یہ دونوں بعث اور بحث سے مرکب ہیں۔جن کے معنے کریدنے اور مناقشہ کرنے کے ہیں۔حدیث شریف میں آیا ہے مَنْنُقِشَ عُذِّبَ۔جس کے حساب میں ذرا بھی کُرید کی گئی۔وہ عذاب کیا جائے گا۔ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ مُردہ دل بے وفا جو پنجرقالب میں مقیّد ہے۔ان کی وفاداری اور بے وفائی کی جب کُرید ہو گی تو ان کا پرورش کنندہ ان سے ان کی باغیانہ حرکتوں کی خوب خبر لے گا۔ل تاکید کے لئے ہے۔یہ کُرید حساب کی دنیا میں ہوتی ہے۔اور آخرت میں بھی۔اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُھُمْ ( الانبیاء: ۲) میں دونوں حساب مراد ہیں۔بلکہ نبی کی معرفت دنیوی محاسبہ اقرب ہے۔پیغمبر صلی اﷲعلیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا ہے۔اَنَا الْحَشِرُ الَّذِیْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی قَدَمِیْ۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍ستمبر ۱۹۱۲ء)