حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 443 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 443

نَقْعَ کے معنی گردوغبار کے ہیں اور اَثَرَ ان کا اڑانا ہے۔یہ وفاداری کا چوتھا قدم ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصوٰۃ والسلام کا ایک شعر یاد آ گیا۔اگرچہ دردرِ جاناں چو خاک گردیدم دِلَم تپد کہ فدایش غبار خود بکنم (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍ستمبر ۱۹۱۲ء) ۶۔۔عَادیات، مُوریات وغیرہ ہر فعل کو جمع کے صیغہ سے بیان فرما کر آخر بھی جَمْعًا فرمایا۔اس تاکید میں یہ اشارہ ہے کہ جس جماعت کا شیرازہ کمزور ہے۔وہ جماعت فاتح نہیں ہو سکتی۔پانچواں قدم وفاداری کا یہ بیان ہوا ہے کہ میدانِ جنگ کے وسط میں تلواروں اور نیزوں کی زد کے نیچے یہ گھوڑے اپنے مالک کو پُشت پر سوار لئے ہوئے بیٹھ جاتے ہیں۔پھر آگے وفاداری و جاں بازی کی جو کچھ حرکات شریف الطبع بے زبان جانور سے صادر ہوتے ہیں۔ان کو ان کے سوار ہی جانتے ہیں۔۷۔۔یہ ساتویں آیت جَو ابِ قَسَم ہے۔کَنُوْد کَنَدَ سے ماخوذ ہے۔اور کَنَدَ کے معنے قطع کرنے کے ہیں۔رسی کاٹ دینے کو کَنَدَ الْجَبْلَ کہتے ہیں۔گھوڑا گھاس۔توڑی بھُوسہ کھاتا ہے۔اور وفاداری میں بڑا جانباز ہے۔انسان ہزاروں قسم کی لذیز سے لذیذ نعمتیں اپنے رب کی دی ہوئی کھاتا ہے اور وفاداری کے وقت اس رشتۂ ربوبیت کاٹ دیتا ہے۔بے وفا ناز پروردہ انسان جو بھینسے کی طرح پھولا ہوا ہوتا ہے۔اس کی مثال اس شعر میں خوب بیان کی گئی ہے۔ع اسپ لاغر میاں بکار آید روزِ میداں نہ گاہ پرداری گھوڑا میدان کے دن بڑا چُست ہوتا ہے مگر بے وفا انسان کُنْد ہوتا ہے۔کنُود میں اسی بات کو بیان فرمایا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍ستمبر ۱۹۱۲ء) ۹۔۔