حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 430 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 430

(الطلاق:۱۱،۱۲) اس جگہ کا بدل رَسُوْلاً واقع ہو ہے۔یعنی ذکر بھی نازل ہوا اور رسول بھی نازل ہوا۔قرآن شریف رَسُوْلً یَّتْلُوْا نہیں ہے۔رَسُوْلًا ہے۔غرض پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہل وسلم کے ظہور اور آپؐ کی بعثت کے انوار پوری آب و تاب کے ساتھ قرونِ ثلاثہ مشہود لھا بالخیر تک تھے۔ہزار مہینے گزرنے تک دنیا نے ظلماتی حالت پھر اخیتار کر لی اور پھر وعدۂ الہٰی لَیْلَۃُالّقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھَرٍ کا پورا ہوا فَھَلُمَّ جِْرًّا۔اسی طرح سے ہزار مہینے کے بعد اﷲ تعالیٰ اپنے اس قرآنی وعدہ کے بموجب رسول مقبول علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دین کی تجدید کے لئے ہر صدی پر جو قریباً ہزار مہینے کے بعد آتی ہے مجدّدین کو نازل فرماتا رہا۔اِنَّ اﷲَ یَبْعَثُ لھٰذَالْاُمَّۃِ عَلٰی رأس کلّ مِائَۃِ سَنَۃٍ مَنْ یُّجَدّدُ لَھَادِیْنَھَا۔حدیثِ نبویؐ اور آیت قرآنی دونوں متفق ہو گئے۔قرآن شریف میں پیغمبروں کی نسبت جبکہ (المومن:۷۹) تو مجدّدین کی تفتیش کہ کون کون تھے۔یہ عبث ہے۔لوگ جن جن کو مجدّد قرار دیں گے ہم ان کو مان لیں گے۔مگر دیکھنا تو یہ صروری ہے کہ ہماری اس صدی چہار دہم میں یہ وعدہ قرآن شریف کا اور حدیث شریف کا وقوع میں آیا بھی یا نہیں۔اگر اور صدیوں میں وقوع میں آتا رہا اور اس صدی میں وقوع میں نہیں آیا تو ہمارے جیسا بدبخت اور کوئی نہیں کہ ظلمت میں چھوڑ دیا گیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۲؍اگست ۱۹۱۲ء) ۵۔۔کے معنے لِکُلِّ اَمْرٍہیں۔ہر کام کی سلامتی سے یہ مراد ہے کہ پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہی سے زمانہ نے اپنی دینی و دنیوی دونوں قسم کی ترقیات کا رنگ پکڑ لیا۔سائنس کی نت نئی تحقیقات کے ساتھ ہی سے زمانہ نے اپنی دینی و دنیوی دونوں قسم کی ترقیات کا رنگ پکڑ لیا۔سائنس کی نت نئی تحقیقات اور ان کی ایجادیں دنیوی اعتبار سے مِنْ کُلِّ اَمْرٍ سَلٰمِ کی طرف مصداق ہو رہی ہیں۔تو دینِ اسلام کی اشاعت اور اس کی ترقی دوسرے پہلو پر مِنْ کُلِّ اَمْرٍ سَلٰمٌ کو دکھلا رہی ہے۔کارے وہر مردے۔رمضان شریف کی لیلۃ القدر میںجو نزول ملائکہ ہوتا ہے۔وہ بھی بجائے خود سلّم و متّقین ہے اور صدی کے رأس پر جو نزول ملائکہ ہوتا ہے وہ بھی اپنی تاثیرات اور شواہد کی رُو سے مشہود و مرئی ہے۔