حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 427
سُوْرَۃَ الْقَدْرِ مَکِّیَّۃٌ ۲۔۔لَیْلَ۔ظلمت اور قدْر دال کے سکون کے ساتھ بمعنے مرتبہ۔یہ دونوں صفتیں ایک جگہ اکٹھی کی گئی ہیں۔لیلث القدر۔ایک خاص رات رمضان شریف کے آخر دھاکا میں ہے۔جس کا زکر سورۃ الفجر میں وَ الَّیْلِ ابذَا یَسْرِ ( فجر:۵)میں بھی کیا گیا ہے۔اور ایک جگہ فرمایا شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ (بقرہ:۱۸۶)اور دوسری جگہ بیان فرمایا اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ( القدر:۲)ان دونوں آیتوں کے ملانے سے بھی معلوم ہوا۔کہ لیلۃ القدر رمضان شریف میں ہے۔پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے اور بھی زیادہ تشریح کر کے یہ پتہ دیا ہے کہ لیلۃ القدر رمضان شریف کے آخیر دھاکا کی طاق راتوں میں ہوا کرتی ہے۔کسی سال اکیسویں شب کو۔کسی سال ۲۳ یا ۲۵ یا ۲۷ یا ۲۹ ویں شب کو۔اس شب کے فضائل صحیح حدیثوں میں بیحد بیان فرمائے ہیں۔کا مرجع جس طرح قرآن شریف سمجھا گیا ہے۔اسی طرح اس سے پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی زاتب مبارک بھی مُراد ہے۔اسی لئے فرمایا۔کہ قرآن اور منزل علیہ القرآن دونوں ہی مرجع ٹھہریں۔ورنہ اَنْزَلْنٰہُ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ فرمانا کوئی بعید بات نہ تھی۔لیل وہ ظلمت کا زمانہ ہے۔جو پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی بعثت کے وقت سے پہلے کا زمانہ تھا۔جس کو عام طور پر ایّام جاہلیت کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور قَدْر دال کی سکون کے ساتھ وہ قابلِ قدر زمانہ ہے۔جس زمانہ سے پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت شروع ہوئی اور اس کی مدّت پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی حیاتِ طیبّہ میں سے ۲۳ سال کی مدّت تھی۔جس میں ابتداء الیٰ آخر سارے قرآن شریف کا نزول ہوا۔ایک طرف ظلمت کے ایّام ختم ہوئے اور دوسری طرف قبالِ قدر زمانہ شروع ہوا۔اس لئے یہ متصاد صفت لیلؔ اور قدرؔ یہاں آکر اکٹھے ہو گئے۔شبِ قدر اور لیلۃ القدر دال کی حرکت کے ساتھ صحیح نہیں ہے۔قرآن شریف میں بھی شہر اور فجر کی طرح قدر کی دال متحرک نہیں ہے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۲؍ اگست ۱۹۱۲ء)