حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 424 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 424

پرو کر سر کو گھسیٹتے ہوئے پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے حضور میں لایا گیا۔اس وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا: اُذُنٌ بِاُذُنٍ وَالرَّأْسُ ھَھُنَا مَعن الْاُذُنِ (درس القرآن) ۲۰۔۔: قرآن کریم کے سجداتِ تلاوت میں سے یہ آخری سجدہ ہے۔حدیثِ شریف میں ہے کہ بندہ سجدہ کی حالت میں خدا تعالیٰ سے بہت ہی نزدیک تر ہوتا ہے۔حدیث شریف کا اور آیت شریف کا مطلب گویا ایک ہی ہے۔وضو نہ ہو تو تیمّم ہی کافی ہے۔گوبے وضو بھی جائز ہے مگر کم از کم تیمّم کر لیا جاوے تو بہتر ہے۔دعا کے لئے سجدہ ایک بے نظیر موقعہ ہے جس کو زبان عربی نہ آتی ہو وہ اپنی مادری زبان ہی میں تسبیح کے ساتھ اپنی مشکلات کے لئے دعا بھی کرے۔سجدات کے وقت کی دعائیں خطا نہیں جاتیں۔یہ وقت بہت ہی قُرب الہٰی کا وقت اہوتا ہے۔جس قدر سجدات کی تعداد زیادہ ہو گی۔اسی قدر قرب کے مدارج بھی زیادہ ہوں گے۔جن کے لئے یہ نعمت مقدر ہی نہیں وہ اس ادنیٰ سی حرکت کی توفیق پانے سے محروم رہتے ہیں۔اَلدُّعَآئُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ دعا تمام عبادتوں کا مغز ہے اور سجدہ تمام منازلِ قرب کا انتہائی مقام ہے۔یہ دونوں باتیں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔اس کلامِ الہٰی میں پانچ پیشگوئیاں ہیں۔اوّل۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ربوبیتِ الہٰی نے جو تیری خاص پرورش فرمائی ہے اور اپنے اندازہ کاص سے قوٰی مرحمت کئے اور خاص کلام کے لئے تجھے منتخب کیا۔اور اپنے ہاتھ سے تیرا پیڑ لگایا ہے اور تیرے مبارک پھلوں کے انتطار میں بیٹھی ہے وہ تجھے صرور کامیاب اور سرسبز کرے گی اور تیرے نونہال کو اعداء کے تبر اور مخالف جھونکوں سے محفوظ رکھے گی۔دوسری پیشگوئی یعنی اس منی کے کیڑے یاجونک کی طرف دھیان کرو کہ وہ کیسا حقیر اور ذلیل تھا جس کا ایسا خوبصورت اور باکمال انسان بنا۔جب ہماری ربوبیت نے نظرِ عنایت سے ایک کیڑے کو اس صورت و شکل تک پہنچایا ہے اور ایک مقصد اور غایت کے لئے جو ربوبیت کا اصلی تقاضا ہے۔یہ خلعت کمال مرحمت فرمایا ہے۔تو کیا اب ہماری ربوبیت اس کا ساتھ چوڑ دے گی۔ہم اپنی ربوبیت کا سایہ عاطفت اس پر رکھیں گے۔جب تک وہ انسان اپنی خلقت کی علّتِ غائی کو پہنچ نہ جائے۔قرآن کریم میں تدبّر کرنے والے جانتے ہیں کہ نبوّت کی تربیّت اور اس کے کمال مطلوب تک پہنچانا