حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 425
پہنچانا خدا تعالیٰ کے اسم ربّ کا خاصہ ہے۔اور جہاں جہاں خدا تعالیٰ نے ضرورتِ نبوّت کی قرآنِ کریم میں بحث چھیڑی ہے دلیل میں اپنے اسم ربّ کو مذکور فرمایا ہے اس لئے کہ جیسے اس ربوبیت نے انسان کے عالم اجسام کے لئے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی اشیاء کو مسخّر کیا اور خدمت میں لگا دیا ہے ویسے ہی اس کی ربوبیت نے تقاضا کیا کہ انسان کی روہ کی تربیت کے لئے جو اصلی مقصود اور ابدی غیر فانی شَے ہے اس کی تربیت کے مناسب حال سامان مہیا کرے۔سو اس کے لئے اس نے نبوّت کا سلسلہ اس جہان میں قائم کیا۔اور جہاں نبوّت کے اعداء اور مخالفین کو مقابلہ سے ڈرانا چاہا اور ان کے بارے میں خوفناک وعید بیان کرنے چاہے ہیں وہاں نبوّت کی حمایت و دفاع میں اسم اﷲ کو جو جامع جمیع صفاتِ کاملہ ہے پیس کیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے۔کہ نبوّت کا اصلی مقصد توحیدِ الوہیت کا قائم کرنا اور الہٰہ باطلہ اور ہر قسم کی طواغیت کا ابطال کر کے خدا تعالیٰ کے لئے معبودیت اور الوہیت کا یگانہ استحقاق اور لاشریک منصب مخصوص کرنا ہوتا ہے تو جب عداوت اور مخالفت اپنے ہتھیار پہن کر اس کا استیصال کرنے پر آمادہ ہوں۔تب غیرت اور جوش بھی اسی کو آنا چاہیئے جس کی خدمت کے لئے نبوّت میدان میں نکلی ہے۔بہر حال اس علق اور الانسان کے لفظ میں بڑی بھاری پیشگوئی ہے۔تیسری پیشگوئی۔۔۔اس کا مطلب یہ ہے۔کہ اس کتابِ عجیب میں جو تجھے دی جاتی ہے۔اور جو بظاہر انسانی قلم سے لکھی جاتی ہے۔وہ وہ علومِ عالیہ ہوں گے کہ کُل بنی آدم کی معلومات اس کے مقابلہ سے عاجز آ جائیں گے۔اَلْاِنْسَان سے ملا کر یہ ارشاد فرمایا ہے۔کہ فطرتًا اور اکتسابًا انسان کی بساط میں اور اس کے قوٰی کی رسائی میں وہ علومب عالیہ آہی نہیں سکتے۔جن پر قرآن مجید مستمل ہے۔لہٰذا یہ علوم لا ریب خداوند علیم خالق انسان کی طرف سے ہیں اور اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ ذہینوں کے ذہن۔عقیلوں کی عقلیں اور عالموں کے علم اور محرّروں کی قلمیں ان سماوی علوم کے مقابلہ میں ٹوٹ جائیں گی۔