حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 418
ایک زمانہ تھا کہ اﷲ تعالیٰ نے نبوّتوں کے توسط سے اپنے تخت کو بنی اسرائیل کے لئے طورب سینین اور اور ملک شام کی طرف بچھایا۔اور اب دوسرے زمانہ میں اپنی حکمت اور مصلحت کی بناء پر بنی اسمٰعیل اور تمام دنیا کے لئے اپنے تخت کو محمد رسول اﷲ علیہ و الہٖ وسلم کے توسط سے بلد اﷲ الامین میں تجویز فرمایا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍اگست ۱۹۱۲ء) ۵۔۔کے لفظ میں یہ بیان فرمایا ہے۔کہ ذرا سی بے اعتدالی سے انسان تقویم کے اعتدال سے یکسُو ہو کر جسمانی طور پر بیمار ہو جاتا ہے۔تینؔ یا زیتون کا نسخہ تجویز کرنا پرتا ہے۔ایک سے اچھا نہ ہو تو دوسرا بدلنا پڑتا ہے۔یہی حال روحانیت کی تقویم کا بھی ہے کہ گناہوں میں مبتلا ہو کر انسان اَسْفَلَ السّنافِلِیْن میں جا گرتا ہے۔۶۔۔میں یہ اشارہ فرمایا کہ بادشاہیاں چھن جاتی ہیں۔محتاجیوں کے قعر میں جا پڑتے ہیں نبوّتیں منتقل ہو جاتی ہیں۔ایک قوم نالائق ہوتی ہے۔تو محروم رکھی جاتی ہے اور اس کی جگہ اﷲ تبارک و تعالیٰ دوسری قوم کو منتخب فرماتا ہے۔جیسا کہ بنی اسرائیل اور بنی قیدار کا حال ہوا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍اگست ۱۹۱۲ء) ۷ تا ۹۔۔۔۔یہ استثناء بڑا ضروری تھا اور اس بت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔کہ نئی نبوّت کے قائم ہونے کے وقت پرانے نبی کے متبّعین اگر موجودہ زمانہ کے مرسل کو بھی قبول کر لیں گے۔تو ان کا اجر ممنون یعنی منقطع نہ ہو گا بلکہ دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ یُؤْتِکُمْ کِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِہٖ (الحدید :۲۹)یعنی دوہرے اجر ملیں گے۔اگلے بھی اور پچھلے بھی۔