حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 419 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 419

معنے دین کے جزا سزا کے ہیں۔سورۂ شریفہ بہت چھوٹی ہے۔مگر ایک ایک لفظ سے اشارات یہ پائے جاتے ہیں کہ انتقالِ نبوّت بنی اسرائیل سے بنی اسمٰعیل میں جو ہوا۔تو حق اور حکمت کے ساتھ ہوا۔بے وجہ نہیں ہوا۔طبیب نے نسخہ تبدیل کیا تو سوچ سمجھ کر ہی کیا۔: اب اے نبی صلی ا علیہ و آلہٖ وسلم تیری تکذیب سے ان کو کیا فائدہ جبکہ جزا سزا، یا یوں کہو کہ مرض کی دوا موافق طبیعت کے ملی ہے۔حاکموں پر جو حاکم ہوتا ہے۔اس کا یہی کام ہوتا ہے کہ حکمت اور مصلحت کی بناء پر ماتحت حکومتوں کو بدل دے۔حضرت مسیحؑ کا پتہ تِیْن اور زیتون سے دیا گیا۔وہ پہاڑ جس پر یروشلم آباد ہے اس کے دو ٹکڑے ہیں۔ایک کو اب تک زیتون کی پہاڑی کہتے ہیں اور دوسرے کو تِین کہتے ہیں۔اور ساعیران دونوں کے مجموعہ کا نام ہے۔سو تِیْن اور زیتون کے ذکر سے حضرت مسیحؑ کی جائے ظہور کا پتہ دینا منظور ہے کیونکہ زیتون پہآر کے پاس مسیحؑ نے ایک گدھے کا بچہ منگوایا تھا اور اس کے ذریعہ سے اپنی نسبت ایک بری پیسگوئی کو ظاہر کیا تھا ( لوقا باب ۱۹ آیت ۳۰) متی باب ۲۱ آیت ۱،۲، مرقس باب ۱۱ آیت ۱،۲) اور تِین پہاڑی کے پاس ( جس کو تِین اس وجہ سے کہتے ہیں کہ وہاں انجیر کے درخت تھے) حضرت مسیحؑ نے ایک معجزہ ظاہر کیا تھا ( دیکھو مرقس باب ۱۱ آیت ۱۴) اور انجیر کا نشان دیکھنے پر ایک شخص ایمان لایا ( یوحنا باب ۱ آیت ۴۸) طورِ سینا پر حصرت موسٰیؑ کو خدا کی طرف سے احکام ملے اور ان پر تجلی الہٰی ہوئی۔امن والا شہر یعنی مکّہ معظمہ دشتِ فاران میں ہے۔کیونکہ حضرت اسمٰعیل ؑاور بی بی ہاجرہ کو حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام اسی سر زمین میں چھوڑ گئے تھے ( دیکھو پیدائش باب ۲۱ آیت ۲۱) اس دشت سے حضرت محمد مصطفٰے صلی اﷲ و آلہٖ وسلم جلوہ گر ہوئے اور دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ فتح مکہ کے دن مکہ میں تشریف لائے۔اور ان کے ہاتھ میں آتشی شریعت تھی۔پس تین و زیتون۔طور سینین۔بلدالامین ( یعنی شہر مکہ ) تین عظیم الشان انسانوں کی یادگاریں ہیں۔جن کی ستائش ہزارہا سال سے تمام عالم میں ہو رہی ہے۔یہ بات اس بات کی دلیل ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اَحْسَنِ تقویم میں پیدا کیا ہے اور روحانی اور جسمانی دونوں حیثیتوں سے اس کو اعلیٰ سے اعلیٰ خلقت عطا ہوئی ہے۔جس کے نمونے یہ تینوں برگزیدہ انبیاء علیہم السلام ہیں۔اور جن کی تبلیع سے ہر ایک انسان اپنی فطرت پر قائم اور فطری نقشے پر جما رہ سکتا ہے۔مگر بدعملی اور بے ایمانی کی وجہ سے بھی انسان ایسا خراب ایسا بد