حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 410 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 410

سُوْرَۃَ التِّیْنِ مَکِّیَّۃٌ ۲۔۔تِین۔زیتوں۔طُور حضرت عیسٰی و حضرت موسٰی کے لئے تجلّی کی جگہ اور یہ بلدِ امین آپؐ کے لئے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۸۸) ’’خدا سینا سے نکلا اور سعیر سے چمکا اور فاران کے پہاڑ سے ظاہر ہوا۔اُس کے داہنے ہاتھ میں شریعت ہے۔ساتھ لشکر ملائکہ کے آیا‘‘ (توریت کتاب استثناء ۵ باب ۳۳ آیت ۲) آئے گا اﷲ جنوب سے اور قدوسؔ فاران کے پہاڑ سے۔آسمان کو جمال سے چھپا دیا اس کی ستائش سے زمین بھر گئی۔جقوق باب۳۔آیت ۳۔سینا سے موسٰی جیسا بادشاہ صاحبِ شریعت ظاہر و باطن نکلا شعیر جس کے پاس بیت لحم اور ناصرہ ہے مسیح ظاہر ہوا۔قرآن نے اس پیشگوئی کو محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی نسبت بیان کیا ہے۔دیکھو۔۔۔قسم انجیر کی اور زیتون کی۔اور طور سینین کی اور اس امن والے شہر کی۔ان تین مقامات کی خصوصیت نہایت غور کے قابل ہے۔عہد عتیق میں اس تکصیص کی وجہ مفصّل مذکور ہوئی ہے۔قرآن کا طرز ہے کہ جس بات کی تفصیل عہد عتیق و جدید میں نہ ہو۔اس کی تفصیل کرتا ہے۔اور جس کا بیان وہاں مفصل ہو اس کی طرف مجمل اشارہ کرتا ہے۔اب دیکھو۔قرآن نے مسیح کے مبدائے ظہور کو تِین اور زیتون سے تعبیر فرمایا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ زیتون کے پہاڑ کے پاس مسیح نے ایک گدھے کا بچّہ منگوایا اور اس کے ذریعے سے اپنی نسبت ایک بڑی پیشینگوئی کو ثابت کیا دیکھو لوقا باب ۱۹۔۳۰ متی باب ۲۱۔امرقس باب ۱۱۔۱ تِین کے درخت کے پاس ایک معجزہ ظاہر کیا۔دیکھو مرقس باب ۱۱۔۱۴۔اور انجیر کا نشان دینے پر ایک شخص ایمان لایا۔یوحنا باب ۱۔۴۸۔