حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 411
۔وادیٔ فاران اور دشتب فاران کی تفسیر قرآن نے یہ فرمائی ہے کہ فاران سے شہر مکّہ مراد ہے۔جہاں مسیح جیسا بشیر اور موسٰی جیسا بشیر و نذیر نکلا۔جس کی شریعت کی نسبت کہا گیا۔(المائدہ:۴) آج مَیں نے پورا کردیا تمہارے لئے دین کو تمہارے اور پوری کر چکا مَیں اوپر تمہارے نعمت کو اور پسند کیا میں نے تمہارے لئے دین اسلام کو۔۱۔فاران کے پہاڑ سے ایسا ظاہر ہوا کہ تمام دنیا اس کا لوہا مان گئی۔اس کے داہنے ہاتھ میں شریعت روشن ہے۔اس کا لشکر ملائکہ کا لشکر ہے۔اس کے سبب سے خدا جنوب سے آیا۔اس کی ستائش سے زمین بھر گئی۔موافق اور مخالف نے محمدؐ محمدؐ یا احمد ؐ احمد ؐ پکارا۔اس سے زیادہ زمین ستائس سے اور کیا ابھرتی۔دشمن بھی محمدؐ کے نام سے پکارتے ہیں۔پرانے عربی ترجموں میں ’’ اس کی ستائش سے زمین بھر گئی‘‘ کی بجائے یہ لفظ لکھے ہیں۔وَامْتَلَأ اَلْاَرْضُ مِنْ تَحْمِیْدب اَحْمَدَ۔۱؎ نوٹ : محمدؐ بمعنے ستائش کیا اور احمدؐ بڑا ستائش کیا گیا۔کیونکہ صیغۂ فعل مبالغۂ فاعل اور مفعول دونوں کے لئے آتا ہے۔۱؎ : اور بھر گئی زمین ستائش سے احمد صلّی اﷲ علیہ وسلم کی۔۲۔سینا کی جنوبی حد سے فاران شروع ہوتا ہے۔مکّہ مدینہ اور تمام حجاز فاران میں ہے۔کون دنیا کی ابتداء سے سوائے نبی عربی صاحب شریعت ستائش کیا گیا۔یعنی محمدؐ یا احمدؐ کے فاران میں پیدا ہوا۔۳۔وادیٔ فاطمہ میں گل جذیمہ یعنی پنجۂ مریم بیچنے والوں سے پوچھو کہ وہ پھول کہاں سے لاتے ہیں تو لڑکے اور بچے بھی یہی کہیں گے کہ مِنْ بَربیَّۃِ فَارَانَ یعنی دشتِ فاران سے۔۴۔وہ کون سا فاران ہے جس سے خدا ظاہر ہوا۔جہاں سے مسیحؑ کے بعد رسول نکلا اور اس پر روشن شریعت نازل ہوئی۔وہ کون سا مذہب سے جو فاران سے نکل کو تمام دنیا کے مشرق و مغرب میں پھیل گیا۔۵۔اسماعیلؑ کی والاد کو برکت کا وعدہ تھا۔وہ اولاداسمٰعیلؑ کی عرب میں آباد ہوئی تھی اور ان میں سے موسٰی کا سا نبی ظاہر ہونا تھا۔۶۔فاران کے معنے وادی غیر ذی زرع کے ہیں۔اور یہی مکّے کی صفت قرآن میں بیان ہوئی۔اسی مضمون کے سروع میں دیکھ لو۔