حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 407
سُوْرَۃَ اَلَمْ نَشْرَحْ مَکِّیَّۃٌ ۲۔۔اس سے ماقبل کی سورۃ سورۃ الضحٰی میں ظاہری و جسمانی انعامات کا ذکر تھا۔اور اس سورہ شریفہ میں آپؐپر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے جو روحانی نعمتیں ہوئیں ان کا ذکر ہے۔شرح صدر ایک کشفی کیفیت تھی جو پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم پر وارد ہوئی تھی۔جبکہ آپؐ کی عمر دس سال سے کچھ اوپر تھی اور بعد میں نبوّت کے زمانہ میں بھی دوبارہ وہ کشفی اور روحانی معاملہ شرح صدر کا آپؐ سے کیا گیا۔ظاہری اثر اس کا آپؐ پر یہ تھا کہ جو وسیع الحوصلگی آپؐ کی تھی۔اس کی نظیر اَوروں میں کیا اولاوالعزم نبیوں میں بھی پائی نہیں جاتی۔نوح علیہ السلام نے قوم سے دُکھ اُٹھا کر رِبِّ لَا تَذنرْ عَلَی الّاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا ( نوح:۲۷)کہہ دیا اور موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام قوم سے دُکھ اُٹھا کر وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْم ( یونس:۸۹) کی دعا کرتے ہیں۔مگر پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے جب لائف کے شریروں سے اس قدر پتھروں کی مار سے دُکھ اٹھایا کہ سارا بدن آپؐ کا خون آلود ہو گیا۔اس وقت آپؐ نے فرمایا تو یہ فرمایا۔کہ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَایَعْلَمُوْن( بخاری کتاب الانبیاء باب ۵۴)جبرئیل علیہ السلام نے طائف والوں کی ہلاکت کے لئے عرض کیا تو فرمایا کہ نہیں میں امید رکھتا ہوں کہ ان کی نسل سے مسلمان پیدا ہوں گے۔پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی نو بیبیاں تھیں۔انسان ایک دو بیبیوں کی نازبرداری سے تنگ آ جاتا ہے۔مگر آپؐ سے تمام بیبیاں خوش تھیں۔آیۃ تطہیر کے اترنے پر جو سورۃ الاحزاب میں ہے۔آپؐ نے سب بیویوں کو اختیار دے دیا تھا۔مگر کسی نے بھی آپؐکے حُسنِ اخلاق اور انشراح صدر کو ملعوم کر کے آپؐ سے جدائی کو پسند نہ کیا۔یہ کیسا انشراحِ صدر اور عالی حوصلہ تھا کہ فتح مکّہ کے روز جن ظالموں نے آپؐ سے جدائی کو پسند نہ کیا۔یہ کیسا انشراحِ صدر اور عالی حوصلہ تھا کہ فتح مکّہ کے روز جن ظالموں نے آپؐ سے جدائی کو پسند نہ کیا۔یہ کیسا انشراحِ صدر اور عالی حوصلہ تھا کہ فتح مکّہ کے روز جن ظالموں نے آپؐ کو شہر سے نکالا تھا اور آپؐ کے اصحابؓ کو طرح طرح کی بے رحمیوں سے قتل کیا تھا۔ان سب کو آپؐ نے لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ کہہ کر یک لخت