حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 408 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 408

معانی دے دی۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍دسمبر ۱۹۱۲ء) : غور کرو موسٰیؑ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْٗرِیْ کی دُعا کرتے ہیں اور یہاں۔( تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۸۸) ۳۔سینہ کی تنگی۔یہ سب سے بڑھ کر وِزْر انسان پر ہوتا ہے۔عالی ہمّتی اور فراخ حوصلگی کے برابر سبکدوش رکھنے والی انسان کے لئے کوئی دوسری چیز نہیں۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍دسمبر ۱۹۱۲ء) اس آیت شریفہ فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا (الفتح:۲) کی تفسیر کے لئے قرآن ہی عمدہ تفسیر ہے۔اور وہ آیت مفسّرہ آیت۔ہے فتہ سے مراد ہے۔دل پر علومِ باری اور آسمانی بادشاہت کے اسرار کھولنا اور جب وہ کھلتے ہیں تو توبہ اور خشیت اور خوفِ الہٰی پیدا ہوتا ہے۔جس کے باعث گناہ نہیں رہتے۔انسان نئی زندگی پاتا ہے۔نیا جلال حاصل کرتا ہے۔( فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۱۶۹۔۱۷۰) ۵۔۔اذان میں کلمۂ شہادت سب اﷲ تعالیٰ کے نام کے ساتھ آپؐ کا بھی نام تمامی دنیا میں بلند آوازوں سے پکارا جا رہا ہے۔مکّی زندگی آپؐ کی ایسی تھی جیسی کہ سکھوں کے عہد میں مسلمانوں کی تھی اس وقت اس قسم کی زبردست پیشگوئی کا کیا جانا اور پھر اس کا پورا ہونا یہ بجائے خود آپؐ کی رفعتِ شان پر دلیل ہے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍دسمبر ۱۹۱۲ء) ۶،۷۔۔۔ایک روایت میں آیا کہ لَنْ یَّغْلِبَ عُسْرٌ یُسْرَیْنِ یعنی ایک سختی دو آسانیوں پر کبھی غالب نہیں آئے گی۔اگرچہ عُسر کا لفظ بھی دو بار ہے۔اور یُسر کا لفظ بھی دوبار ہے۔مگر اَلْعُسْرُ