حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 399
اقوال و افعال سے ظاہر ہے۔مگر دیکھ لو کہ کس طرح روزافزوں ترقی اسلام اور بانیٔ اسلام اور عرب کو ہوئی۔پس اگر قسم زہر تھی تو اس نے تریاق کا کام دیا اور اگر حق ہے تو کسی حقیقت حق کی ظاہر ہوئی کہ تمہارے ملک میں بھی آبراجا۔’’قسم دو قِسم کے ہوتے ہیں۔اوّل بڑے ضروری۔دوسرے ان سے کم درجہ کے۔بڑے ضروری مطالب کو بہ نسبت دوسرے مطالب کے تاکید اور براہین اور دلائل سے ثابت کیا جاتا ہے۔یہ میرا دعوٰی بہت صاف اور ظاہر ہے۔تاکید کے لئے ہر زبان میںمختلف کلمات ہوا کرتے ہیں۔ایسے ہی عربی زبان میںبھی تاکید کے لئے بہت الفاظ ہیں مگر ایشایائی زبانوں میںعلی العموم قسم سے بڑھ کر کوئی تاکیدی لفظ نہیں۔ایسے ہی عربی کے لٹریچر میں بھی قسم سے زیادہ کوئی تاکیدی لفظ نہیں۔قران کریم عربی زبان میں نازل ہوا۔اسی لئے اس میں عربی محاورات پر ضروری مطالب میں قسموں کا استعمال بھی ہوا ہے۔رہی یہ بات کہ اہم اور ضروری امور میں براہین اور دلائل کا بیان کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔قرآن کریم نے ان مطالب میں قسموں کے علاوہ اور کیا ثبوت دیا ہے۔سویاد رہے جہاں قرآن کریم کسی مطلب پر قسم کو بیان کرتا ہے وہاں جس چیز کے ساتھ قَسَم کھائی گئی ہے۔وہ چیز قانونِ قدرت میں قسم والے مضمون کے لئے ایک قدرتی شاہد ہوتی ہے۔اور یہ قسم قدرتی نظاروں میں اپنے مطلب کی مثبت ہوتی ہے جو قسم کے بعد مذکور ہو گا۔مثلاً الخ ایک مطلب جس کے معنے ہیں۔لوگو ! تمہارے کام مختلف ہیں اور ان کے نتائج بھی الگ الگ ہیں۔قرآن مجید اس مطلب کو قانونِ قدرت سے اس طرہ ثابت کرتا ہے۔۔۔ (الّیل: ۲ تا ۴) کیا معنی؟ اس کی کالی گھٹا چھا جاتی ہے۔پھر دن کی بناوٹ پر غور کرو جب اور اپنے انوار کو ظاہر کرتا ہے پھر مرد اور عورت کی خلقت پر نظر ڈالو۔اور ان کے قدرتی فرائض اور واجبات کو سوچو تو تمہیں صاف طور پر عیاں ہو گا کہ بے ریب تمہاری کوششیں الگ الگ اور ان کے نتائج علیحدہ علیحدہ ہیں۔ایسے ہی باری تعالیٰ کے نام پر جان و مال کو دینے والے اور نافرمانیوں سے بچنے والے اور اعلیٰ درجہ کی نیکی کے مصداق اور اس کے مقابل جان اور مال سے دریغ کرنے والے نافرمان اور اعلیٰ درجہ کی نیکی کے مکذّب بھی الگ الگ نتیجہ حاصل کریں گے۔حضرت امام حجۃ الانام نے توضیح ( مراد توضیح مرام ) میں فرمایا ہے۔’’ تمام قرآن شریف میں ایک عادت و سنّت الہٰی ہے کہ وہ بعض نظری امور کے اثبات و حقائق کے لئے