حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 400
ایسے امور کا حوالہ دیتا ہے۔جو اپنے خواص کا عام طور پر بیّن اور کُھلا کُھلا اور بدیہی ثبوت رکھتے ہیں۔جیسا کہ اس میں کسی کو بھی شک نہیں ہو سکتا کہ سورج موجود ہے اور اس کی دھوپ بھی ہے۔اور چاند بھی موجود ہے اور وہ نور آفتاب سے حاصل کرتا ہے۔اور روزِ روشن بھی سب کو نظر آتا ہے اور رات بھی سب کو دکھائی دیتی ہے اور آسمان کا یول بھی سب کے سامنے ہے۔اور زمین تو خود انسانوں کی سکونت کی جگہ ہے اب چونکہ یہ تمام چیزیں اپنا اپنا کھلا کھلا وجود اور کُھلے کُھلے خواص رکھتی ہیں۔جن میں کسی کو کلام نہیں ہو سکتا۔اور نفسِ انسان کا ایسی چھپی ہوئی اور نظری چیز ہے کہ خود اس کے وجود میں ہی صدہا جھگڑے برپا ہو رہے ہیں۔بہت سے فرقے ایسے ہیں کہ وہ اس بات کو مانتے ہی نہیں۔کہ نفس یعن رُوح انسانی بھی کوئی مستقل اور قائم بالذّات چی ہے جو بدن کی مفاقت کے بعد ہمیشہ کے لئے قائم رہ سکتی ہے۔اور جو لوگ نفس کے وجود اور اس کی بقاء اور اثابت کے قائل ہیں۔وہ بھی اس کی باطنی استعدادات کی وہ قدر نہیں کرتے۔جو کرنا چاہیئے تھے۔بلکہ بعض تو اتنا ہی سمجھ بیٹھے ہیں۔کہ ہم صرف اسی غرض کے لئے دنیا میں آئے ہیں کہ حیوانات کی طرح کھانے پینے اور حظوظِ نفسانی میں عمر بسر کریں۔وہ اس بات کو جانتے بھی نہیں۔کہ نفسِ انسانی کس قدر اعلیٰ درجہ کی طاقتیں اور توفیق اپنے اندر رکھتا ہے۔اگر وہ کسبِ کمالات کی طرف متوجہ ہو تو کیسے تھوڑے عرصہ میں تمام عالم کے متفرق کمالات و فضائل و محاسن پر ایک دائرہ کی طرح محیط ہو سکتا ہے۔سو اﷲ جلشانہٗ نے اس سورہ مبارکہ میں نفسِ انسان اور پھر اس کے بے نہایت خواص فاضلہ کا ثبوت دینا چاہا ہے پس اوّل اس نے خیالات کو رجوع دلانے کے لئے شمس وقمر وغیرہ چیزوں کے متفرّق خواص بیان کر کے پھر نفسِ انسانی کی طرف اشارہ فرمایا۔کہ وہ جامع ان تمام کمالاتب متفرقہ کا ہے اور جس حالت میں نفسِ انسان میں ایسے اعلیٰ درجہ کے کمالات و خاصیّات بتما مھا موجود ہیں جو اجرامِ سماویہ و ارضیہ میںمتفرق طور پر پائے جاتے تو کمال درجہ کی نادانی ہو گی۔کہ ایسے عظیم الشان اور مستجمع کمالاتب متفرقہ کی نسبت یہ وہم کیا جائے کہ وہ کچھ بھی چیز نہیں جو موت کے بعد باقی رہ سکے یعنی جبکہ یہ تمام خواص جو ان مشہود و محسوس چیزوں میں ہیں۔جن کا مستقل وجود ماننے میم تمہیں کچھ کلام نہیں یہاں تک کہ ایک اندھا بھی دھوپ کا احساس کر کے آفتاب کے وجود کا یقین رکھتا ہے۔نفسِ انسان میں سب کے سب یکجائی طور پر موجود ہیں تو نفس کے مستقل اور قائم بالذّات وجود میم تمہیں کیا کلام بات ہے۔کیا ممکن ہے کہ جو چیز اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں وہ تما موجود بالذّات چیزوں کے خواص جمع رکھتی ہو۔اور اس جگہ قسم کھانے کی طرز کو اس وجہ سے اﷲ جلشانہٗ نے پسند کیا ہے کہ قسم قائم مقام شہادت کی ہوتی ہے۔اسی وجہ سے حکّام مجازی بھی جب دوسرے گواہ موجود نہ ہوں تو قسم پر انحصار کر دیتے ہیں۔اور ایک مرتبہ کی قسم سے وہ فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔جو کم سے کم