حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 398 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 398

۔ کیا معنی۔رات پر نظر کرو۔جب اس کی کالی گھٹا چھا جاتی ہے۔پھر دن پر نظر ڈالو۔جب اس نے اپنے انوار کو ظاہر کیا۔پھر مرد اور عورت کی خلقت اور بانوٹ پر عور کرو اور ان کے قدرتی فرائض اور واجبات کو سوجو تو تمہیں صاف طور پر عیاں ہو گا کہ بے ریب تمہاری کوششیں الگ اور اس کے نتائج علیحدہ علیحدہ ہیں‘‘ (تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۹۰) دھرم پال کے اعتراض کے جواب میں فرمایا: ’’ اگر قَسَم ہنسی کی بات اور بُری ہے۔تو جو یجروید بھاش چھٹا باب منتر بائیس میں بانی آریہ سماج نے لکھا ہے وہ تو ضرور ردّ کے مقابل ہے ‘‘ ہے (درن) نیا کر نیوالے سبھا پتی ( منصف راجہ ) کئے ہوئے میں نیا اگھنیا نماز نے یوگ گئو( نہ مارنے کے لائق وغیرہ جانوروں کی) آدمی پسُوں کی شپت ( قَسَم سوگند) ہے۔اتی سی پرکار( اسی طرح) جو آپ کہتے ہیں اور ہم لوگ بھی شیام ہی سپت کرتے ہیں آپ بھی اس پرتگیا ( قانون) کو مت چھوڑیئے اور ہم لوگ بھی نہیں چھوڑیں گے‘‘ غور کرو۔گئوادی پشؤاں میں کس قدر گائے۔بیل۔ہرن۔بکری۔اونٹ۔سؤر۔کوّے۔مرغ۔چیل کیڑے مکوڑے داخل ہیں۔انصاف کرو اور پھر سوچو۔وہ جو منوجی اور بھرگ جی کی جامع سنگھتا میں بُرا بول بولا۔جس نے کہا اور ویدک قانون بنایا دیکھو منوجی۸۔۸۸ گئو بیج اور سونا کی قسم دیکر دیشیہ سے پوچھے منو ۸۔۸۹ میں ہے۔سو گند کے وسیلہ سے اصلی بات کو دریافت کرے اور کیا غلط کہا جو منو ۸۔۱۱۰ میں ہے۔دیوتا اور بڑے بڑے رشی لوگوں نے کام کے واسطے سو گند کھائی ہے اور بسوامتر کے جھگڑے میں بششت رشی نے پیون کے بیٹے سدامان راجہ کے روبروقسم کھائی تھی۔ہماری پاک کتاب میں قسموں کا ہونا ایک معجزہ ہے اور عظیم الشان معجزہ ہے۔بلکہ اسلامی اصطلاہ کے مطابق ایک آیت اور نشانِ نبوّت ہے اور عظیم الشان نشانِ نبوّت ہے۔کیونکہ عرب میں ایک مثل تھی۔اِنَّ الْاَیْمَانَ تَدَعُ الْاَرْضَ بَلَاقِعَ قسمیں ملک کو ویران کر دیتی ہیں۔اور منو کہتا ہے ۸۔۱۱۱ کیونکہ جھوٹی قسم کھانے سے اس لوگ میں اور پر لوگ میں نشت ہوتا ہے۔پنجابی میں مثل ہے۔’’جھوٹی قسم تالی …مار دی اے‘‘ اب سوچو اور خوب سوچو کہ قرآن اورصاحبِ قرآن اس قدر قسموں کے ساتھ کیسا فاتہ اور کیسا کامیاب ہوا کہ اس کے دشمنوں کا نام و نشان نہ رہا۔ذرا اس پر غور و تامّل کرو۔ان قسموں کا ثبوت تجارب و ضرب المثلوں اور منو کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے اور تمہارے خیال میں ایک مجنون اور جھوٹے کا فعل ہے۔جلسہ مہو تسو کے اسلامی مضمون میں امام مہدی نے اور بھی واضح فرما دیا ہے۔اور بانیٔ اسلام تو تمہارے نزدیک جیسے ہیں۔تمہارے