حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 397 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 397

سُوْرَۃَ الَّیْلِ مَکِّیَّۃٌ  ۲ تا ۵۔۔۔ ۔۔ماحصل ان چاروں آیتوں کا ایک ہی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ نتائج ہر کام کے اسی قدر نکلیں گے جس قدر کہ خیر یا سر کے وہ کام کئے گئے ہیں ع گندم از گندم بروید جَو زِجَو رات دن کا کام نہیں دیتی۔دن رات کا کام نہیں دیتا۔مرد جن کاموں کے لئے پیدا کئے گئے ہیں عورتوں سے وہ کام نہیں ہوتے۔عورتیں مَردوں کا کام نہیں دے سکتیں۔ہر ایک کے مختلف کام اپنے حسبِ حال مختلف نتیجے پیدا کرتے ہیں۔یہ تمہید اس سورہ شریفہ کی ہے۔تفسیروں میں بیان ہوا ہے کہ سورہ شریفہ کا نزول حضرت ابوبکرؓ اور امّیہ بن خلف کا متضاد مختلف کوششوں کے بارہ میں ہوا۔مضمون اور واقعات کے لحاظ سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔مگر اعتبار عموم لفظ کا ہے۔نہ خصوصی سبب کا۔ہمارے اس وقت کے حسبِ حال صادق کو قبول کرنے والے اور دینی کاموں میں چندہ دینے والے اور ان کے مخالفوں کے لئے بھی خصوصیت سے اس سورہ شریفہ میں عبرت ہے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۸؍اگست ۱۹۱۲ء) ’’ جہاں قرآن کریم کسی مطلب پر قَسَم کو بیان کرتا ہے۔وہاں جس چیز کے ساتھ قَسَم کھائی گئی ہے وہ چیز قانونِ قدرت میں قَسَم والے مضمون کے واسطے ایک قدرتی شاہد ہوتی ہے۔اور یہ قَسَم قدرتی نظاروں میں اپنے مطلب کی مثبت ہوتی ہے جو قَسَم کے بعد مذکور ہو گا۔مثلاً  الخ ایک مطلب ہے جس کے معنے ہیں’’ لوگو! تمہارے کام مختلف ہیں اور ان کے نتائج بھی الگ الگ ہیں‘‘۔قرآن مجید اس مطلب کو قانونِ قدرت سے اس طرح ثابت کرتا ہے۔