حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 396
فکر میں ہوتا وہ خدائے تعالیٰ کی راہوں پر چلنے سے بالکل رہ جائے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۸؍اگست۱۹۱۲ء) ۱۵،۱۶۔ ۔۔: یعنی پیغمبر کی نصیحت کی تکذیب کی اور صالحؑ کی اونٹنی کے پَیر کیا کاٹے اپنے ہی نفسوں پر چُھری پھیرلی۔سو تم اگر اپنی خیر مانگتے ہو تو اس زندگی کا پانی اس پر بند مت کرو اور اپنی بیجا خواہشوں کے تیع و تبر سے اس کے پَیر مت کاٹو۔اگر تم ایسا کرو گے تو وہ ناقہ جو خدا تعالیٰ کی سواری کے لئے تم کو دی گئی ہے مجروح ہو کر مر جائے گی تو تم بالکل نکّمے اور خشک لکڑی کی طرح متصوّر ہو کر کاٹ دئے جاؤ گے اور پھر آگ میں ڈالے جاؤ گے۔: مگر انہوں نے اونٹنی کے پاؤں کاٹے ہو سو اس جُرم کی شامت سے ا ﷲتعالیٰ نے ان پر موت کی مار دالی۔اور انہیں خاک سے ملا دیا۔اور اﷲ تعالیٰ نے اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی بیوہ عورتوں اور یتیم بچّوںاور بے کس عیال کا کیا حال ہو گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۸؍اگست۱۹۱۲ء) خ خ خ