حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 392 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 392

۱۲۔۔افتحام کے معنے کسی خطرناک جگہ میں بغیر پس و پیش کو سوچے دھنس جانے کے ہیں۔اس اقتحامِ عقبہ کو چند آیات میں ایثار نفس وغیرہ سے تعبیر کیا ہے۔ایثار جبھی ہو سکتا ہے۔جبکہ انسان اپنی تنگی کو قبول کرے اور دوسرے کی راحت کو مقدم کر دے۔یہ ایک دشوار گزار گھاٹی ہے۔دنیا کی مفتوح قومیں جب کبھی فاتح بن گی ہیں تو اسی اقتحام کی وجہ سے بن گئی ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍اگست ۱۹۱۲ء) ۱۵۔۔ مصدر میمی ہے۔سَغَبَ یَسْغَبُ سَغْبًا فَھُوَ سَاغِبٌ وَ سَغْبَانُ سَاغِب اور سَغْبَان بھوکے کو بولتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍اگست ۱۹۱۲ء) ۱۸۔ ۔ واسطے تاخیر کے نہیں ہے۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے ایثار نفسی کے کام کرنے سے جو مذکور ہوئے۔انسان مومن بن جاتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍اگست ۱۹۱۲ء) ۱۹۔۔مَیْمَنَۃٌ یُمْن سے مستق ہے۔یہ لوگ بابرکت ہو جاتے ہیں بِالْیَمِیْنِ سے یعنی راست باز نامۂ اعمال کو داہنے ہاتھ میں پانے والے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍اگست ۱۹۱۲ء) ۲۰۔۔مَشْئَمَۃ: شامت اور بدبختی والے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍اگست ۱۹۱۲ء)